خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 577 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 577

خطبات طاہر جلد ۸ 577 خطبه جمعه یکم ستمبر ۱۹۸۹ء مغربی قو میں اپنی ہلاکت کے سامان خود تیار کر چکی ہیں جماعت احمدیہ کا تمدن ہی زندہ رہنے والا ہے ( خطبه جمعه فرموده یکم ستمبر ۱۹۸۹ء بمقام کیسٹا نٹائن نو وانا رتھ ویلز برطانیہ ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کیں: إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَإِنَّا لَجْعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا أَمْ حَسِبْتَ أنَّ أَصْحَبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ أَيْتِنَا عَجَبًا إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا (الكهف (۱۸) اور پھر فرمایا : قرآن کریم کی یہ جو آیات میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں یہ سورہ کہف کے پہلے رکوع سے لی گئی ہیں ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم نے جو کچھ زمین پر ہے اُسے بے حد کشش کا موجب بنایا، زینت کا موجب بنایا ہے۔ لیکن ہم ان تمام زینتوں کو کلیہ تباہ کر دیں گے اور جو کچھ بھی زمین پر ہے اُسے ویرانہ بنا کر چھوڑ دیں گے۔ اس کے معاً بعد پھر فرمایا کہ کیا اس بات پر تو تعجب کرتا ہے کہ خدا کے کچھ بندے ایسے بھی تھے جنہوں نے غاروں میں رہنا زیادہ پسند کیا بجائے اس کے کہ وہ زمین کی سطح پر رہتے اور ان لوگوں کی دعا یہ تھی کہ اے خدا! تو ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما