خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 543
خطبات طاہر جلد ۸ 543 خطبه جمعه ۱۸ اگست ۱۹۸۹ء یہ واقعی محبت والے ہی جانتے ہیں کہ محبت کیا ہوتی ہے اور اگر پروفیسر محمدعلی صاحب کو خود محبت کا تجربہ نہ ہوتا تو خدا جانے وہ کیا اوٹ پٹانگ سا جواب دیتے اور نفسیاتی لحاظ سے ان کیفیات کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتے لیکن یہ بھی اس راہ سے گزرے ہوئے تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے بروقت ان کو صحیح جواب سمجھایا۔ جو شعر میں نے آپ کے سامنے پڑھے ہیں ان کا ترجمہ یہ ہے کہ: ا وو ” اے محبت عجب آثار نمایاں کر دی“ اے محبت تو نے حیرت انگیز نشان ظاہر کر دئے ہیں۔ وو زخم مرحم برہ یار تو یکساں کر دی تو نے تو یار کی راہ میں زخم اور مرحم کو ایک سا بنا دیا ہے۔ اس راہ میں جو زخم لگتے ہیں ہمیں وو وو اس سے بھی ہم لذت پاتے ہیں اور پر جو تو مرحم عطا کرتی ہے یعنی اے محبت ! اس سے بھی ہم لذت پاتے ہیں ۔ ” تا نہ دیوانہ شدم جب تک میں عشق میں دیوانہ نہیں ہو گیا ۔ ہوش نیامد سرم میرے سر کو ہوش نہیں آئی ۔ ”اے جنوں گرد تو گردم۔ اے جنوں عشق میں تیرے گرد طواف کرتا چلا جاؤں ۔ کہ چہ احسان کر دی تو نے عجیب احساں کر دیا ہے۔ 66 پس وہ مہمان جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عشق میں اور اس عشق میں صلى الله جو آپ سے انہوں نے سیکھا یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا سچا عشق اور پھر اس عشق میں جو علی حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ نے دنیا کو سکھایا یعنی خدائے واحد و یگانہ کا پاک اور بے لوث عشق ۔ اس میں کوئی دنیا کی کوئی غیر اللہ کی ملونی نہیں ہوتی ۔ وہ جماعت جو اس عشق میں سرشار ہو کر یہاں پہنچی ہے اس کی دنیا کو سمجھ نہیں آسکتی ۔ آنے والے بھی ایسے ہی ہیں اور جانے والے بھی ایسے ہی ہیں ۔ بہت سی خواتین ، بہت سے ایسے غرباء مجھے ملے جنہوں نے اپنے گاؤں سے باہر کسی دوسرے علاقے کو نہیں دیکھا تھا اور کسی طرح اپنے عزیزوں کی اپنے امیر دوستوں کی منتیں کر کے انہوں نے زادراہ باندھا اور یہاں تشریف لائے ۔ جہاں ان کو اتار دیا گیا وہاں سے باہر قدم نکال کے نہیں دیکھا اور جب میں نے ان سے باتیں کیں تو انہوں نے کہا ہمیں کچھ پتا نہیں کون سا ملک ہے کون سی جگہ ہے ہمیں تو اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ ہماری تمنا پوری ہو گئی کہ ہم موت سے پہلے ایک دفعہ اس جلسے میں شرکت کریں جس میں آپ بھی ہوں اور اپنی آنکھوں سے آپ کو دیکھیں۔