خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 534 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 534

خطبات طاہر جلد ۸ 534 خطبه جمعه ا ار اگست ۱۹۸۹ء کر سکتا تھا اس نے اپنے ایک معصوم بچے کے منہ سے وہ کھجور نکال لی کیونکہ آپ جانتے تھے کہ زکوۃ خدا تعالیٰ کی ایک ایسی امانت ہے جو آپ کی اپنی اولاد پر خرچ نہیں ہونی چاہئے۔ پس نقش دوئی مٹانے کے لئے آپ کو خدا کا نقش دل پر جمانا ہو گا اور خدا کا نقش دل پر جمانے کے لئے آنحضرت ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو سمجھ کر اس کی پیروی کرنی ہوگی ۔ صرف اسوۂ حسنہ کی پیروی کی طرف میں آپ کو نہیں بلا رہا۔ میں یہ کہتا ہوں کہ اسوۂ حسنہ کو سمجھ کر اس کی پیروی کرنی ہوگی اور یہ مضمون بڑا گہرا ہے اور بڑے تفصیلی مطالعہ کو چاہتا ہے۔ باریک فرق کرنے پڑتے ہیں ۔ کہیں آپ کو بخشش کی اجازت ہوگی، کہیں بخشش کرنا خلق محمد مصطفی ﷺ کے خلاف ہوگا یعنی دوسرے لفظوں صلى الله ۔ میں منشائے الہی کے خلاف ہوگا۔ پس یہ صرف بخشش کا سوال نہیں اس قسم کے بے شمار انسانی خلق ہیں صلى الله جن میں حضرت اقدس محمد مصطفی علی کو ہمیشہ کے لئے ہمارے لئے نمونہ بنا دیا گیا۔ صلى الله پس نقش تو خدا کا دل پہ ثبت کرنا ہے لیکن اس مضمون کو آنحضرت ماہ سے سیکھنا ہے۔ جب ی نقش آپ کے دل پر جے گا تو یہ یقش خود بخود آپ کے کردار میں ظاہر ہونا شروع ہوگا اور یہ حرکت اندر سے باہر کی طرف ہوگی اس لئے کوئی تصنع نہیں ہوگا اور پھر یہ حسن آپ کے چہرے پر آپ کے کردار میں، آپ کے مسکرانے میں ، آپ کی خاموشی میں ، آپ کی گفتار میں ، آپ کے رونے میں آپ کے ہنسنے میں ظاہر ہو گا وہ دراصل خدا کا خلق ہے۔ یہ وہ خلق ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی ع کے ظاہر و باطن کو ایک حسن کا سمندر بنا گیا تھا اور اس پہلو سے آپ کے ظاہر و باطن میں کوئی فرق نہیں تھا۔ ورنہ ظاہر و باطن کا ایک ہونا ہمیں آج کل کی ایسی قوموں میں بھی تو ملتا ہے جو بدیوں کا شکار ہو چکی ہیں۔ وہ اپنی بدیاں چھپاتی نہیں ہیں ۔ وہ کھل کر اپنی بدیوں کو ظاہر کرتی ہیں اور اس پہلو سے آپ ان کو جھوٹا نہیں کہہ سکتے ۔ جو کچھ ان کے دلوں میں ہے وہ ظاہر کر دیتے ہیں۔ اگر وہ بعض گناہوں میں ملوث ہیں، شرابیں پیتے ہیں، عورتوں کی طرف جاتے اور اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتے کہ ان کی روایات کے لحاظ سے یا ان کے معاشرے کے لحاظ سے یہ چیزیں بری ہیں تو کم سے کم وہ جھوٹ نہیں بولتے اور جو کچھ ہے وہ ظاہر کرتے چلے جاتے ہیں۔ اس لئے آپ ان کو جھوٹا تو نہیں کہہ سکتے لیکن ان کا ظاہر و باطن ایک ہونا ان کے حسن کی علامت نہیں ہے۔ بد قسمتی سے ہماری جو تیسری دنیا کی قوموں میں نہ صرف یہ کہ ظاہر و باطن ایک نہیں رہا بلکہ جھوٹ نے اس پر قیامت برپا کر رکھی ہے۔ اتنا جھوٹ ہماری تیسری دنیا کے -