خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 522 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 522

خطبات طاہر جلد ۸ 522 خطبه جمعه ۱۱ اگست ۱۹۸۹ء ہوئے راستے کی طرح پڑی ہے بہت لمبے سفر کرنے ہیں بہت سی مسافتیں طے کرنی ہیں، بہت سی منازل سر کرنی ہیں اس لئے میں جماعت کو اس موقع پر خوب اچھی طرح یہ بات ذہن نشین کروا دینا چاہتا ہوں کہ تقویٰ کے زاد راہ کے سوا ہم ایک قدم بھی منزل کی طرف نہیں بڑھ سکتے ۔ زاد راہ مختلف قسم کے ہوا کرتے ہیں بعض کی ضرورت چوبیس گھنٹے میں دو یا تین د تین دفعہ پیش آتی ہے۔ بعض کی ضرورت نسبتاً زیادہ جلدی یعنی پانی یا اسی قسم کے دوسری مائع غذا ئیں نسبتاً زیادہ جلدی استعمال کرنی پڑتی ہیں لیکن زاد میں وہ ہوا بھی تو ہے جس کے بغیر ایک پل بھی انسان کا گزارہ نہیں ۔ پس تقوی کا زادراہ ان تمام قسم کی ضرورتوں پر حاوی ہے اور تقویٰ کے بغیر نہ صرف سفر آگے نہیں بڑھ سکتا بلکہ انسانی زندگی کا كلية انحصار ہی تقویٰ پر ہے اس لئے ایک سانس بھی ہم تقویٰ کے بغیر لے نہیں سکتے۔ تقویٰ کا مضمون جیسا کہ میں پہلے بارہا اس پر روشنی ڈال چکا ہوں بہت ہی وسیع اور تفصیلی مضمون ہے لیکن آج اس پہلو سے میں آپ کے سامنے تقویٰ کا مضمون رکھنا چاہتا ہوں کہ تقویٰ اور توحید در حقیقت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور توحید خالص ہی ہے جو تمام تقویٰ کے مضامین پر حاوی ہے اور اس سے باہر تقویٰ کی کوئی شاخ نہیں ملتی ۔ پس توحید خالص کے قیام کے لئے یہ صدی ہمارے سامنے کھڑی ہے او ہے اور تمام دنیا میں جب ہم اسلام کے غلبہ کا نام لیتے ہیں تو در حقیقت ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم تو حید خالص کو تمام دنیا میں غالب کریں گے اور یہ مضمون اگرچہ بظاہر آسان اور فوراً سمجھ میں آنے والا مضمون ہے لیکن جب اس پر آپ مزید غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ بہت ہی گہرا مضمون ہے اور اس کے بھی بے انتہا پہلو ہیں ۔ آج کے خطاب کے لئے میں نے ایک ایسا پہلو چنا ہے جس کی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نشاندہی فرمائی ہے۔ ایک سادہ سا دو مصرعوں کا شعر ہے جس میں ایک بہت ہی گہری عرفان کی بات فرما دی گئی ہے جس سے تقویٰ کے اور توحید کے مضمون کو سمجھنے میں بے حد آسانی ہو جاتی ہے اور حقیقت میں بہت سے مضامین کے نئے میدان آنکھوں کے سامنے کھل جاتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: چاہئے تجھ کو مٹانا قلب سے نقش دوئی ه سر جھکا بس مالک ارض و سماء کے سامنے در ثمین صفحه : ۱۵۷)