خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 504
خطبات طاہر جلد ۸ 504 خطبہ جمعہ ۲۸ جولائی ۱۹۸۹ء میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ ہو سکتا ہے اللہ معاف کرے پاکستان پر بھی ایسے ہی حالات ہوں لیکن بعد میں جب میں نے مزید غور کیا اور طبیعت بھی دعا کی طرف مائل ہوئی کیونکہ دل نہیں چاہتا کہ ہمارے وطن پر ویسے ہی حالات پیدا ہو جا ئیں تو مجھے یہ تسلی ہوئی کہ پاکستان سے خدا تعالیٰ کی تقدیر یہ سلوک نہیں کرے گی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام الناس کا جہاں تک تعلق ہے وہ اس جرم میں شامل نہیں ہیں۔ ہر جگہ جہاں بھی موقع ملا ہے پاکستان کے عوام الناس کو انہوں نے مولویوں کی مخالفت کرتے ہوئے اس کی باتوں میں کھیلنے سے انکار کر دیا ہے اور باوجود اس کے کہ فوراً بعد یہ لوگ کھاریاں پہنچے اور دیگر دیہات میں جا کر اشتعال کی کوشش کی انہوں نے صاف انکار کر دیا کہ ہم اس ظلم میں تمہارے ساتھ شریک نہیں ہوں گے۔ اس طرح کثرت سے ایسے واقعات سامنے آتے ہیں کہ مظالم کے وقت ہمسایوں نے مدد کی۔ شہر کے لوگوں نے ہر طرح سے خیال رکھا۔ تو اس لئے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک سلوک کرنے والوں کے ساتھ وہ سلوک کرے جو ان لوگوں سے ہوتا ہے جہاں قوم کی قوم کے دل سخت ہو چکے ہیں۔ تو ہمیں دعا بھی کرنی چاہئے اور امید بھی رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالی پاکستان کو ظلم میں اس حد تک بڑھنے سے روک دے گا جس کے بعد قوموں کی ہلاکت کے فیصلے کئے جاتے ہیں اور اس ملک کو صلى الله خدا تعالی آنحضرت ﷺ کے دین کی اشنا اشاعت کا از سر نو مرکز بنا دے گا۔ کہ اب میں جماعت احمد یہ جاپان کو جاپان سے متعلق کچھ نصیحت کرنی چاہتا ہوں۔ جیسہ میں نے اپنے دورے میں بیان کیا ہے مختلف مجالس میں پر یس کا نفرنسز میں یہ اتنی با اخلاق قوم ہے کہ باوجود اس کے کہ میں نے بہت دنیا پھری ہے، بہت قریب سے دنیا کو دیکھا ہے آج تک میں کسی قوم کے اخلاق سے اتنا متاثر نہیں ہوا جتنا جاپانی قوم کے اخلاق سے متاثر ہوا ہوں ۔ ان کے اندر سچائی ہے، اور اتنی واضح ہے ان کی سچائی کہ شاید ہی کسی قوم میں اس کثرت سے سچ بولنے والے موجود ہوں جتنی جاپانی قوم میں ہیں ۔ ان کے اندر باوجود دنیا کی عظیم بڑائیوں کے بڑے بڑے ممالک کو انہوں نے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پھر بھی انکسار موجود ہے اور یہ ایک بہت ہی بڑا خلق ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ پیار اور محبت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ صلى الله تکبر سے خدا کو نفرت ہے اور انکسار سے محبت ہے اور حضرت رسول اکرم ﷺ نے بار بار