خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 488 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 488

خطبات طاہر جلد ۸ 488 خطبہ جمعہ ۲۱ جولائی ۱۹۸۹ء کسی مذہب سے بھی تعلق رکھتا ہو یا کسی مذہب سے بھی تعلق نہ رکھتا ہو اور یہ جو نہایت ہی خوفناک بہیمانہ ذلیل حرکت کرنے کی ان کو توفیق ملی یہ قربانی کے دن ملی یعنی جس دن حضرت ابراہیم علیہ الصلواۃ والسلام اپنے بچے کی قربانی پیش کرنے کے لئے خدا کے حضور حاضر ہوئے تھے اس دن معصوموں کی قربانی لینے کا یہ بہیمانہ یہ بہیمانہ منصوبہ بنایا گیا اور اس واقعہ کا حضرت ابراہیم کی قربانی سے ایک اور بھی تعلق ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی آگ میں پھینک کر زندہ جلانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور اس گاؤں میں بھی سو سے زائد احمدی گھروں کو آگ لگا کر احمدیوں کو ان گھروں میں زندہ جلانے کا منصوبے بنایا گیا اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کی گئی۔ چنانچہ ۱۶ تاریخ کی صبح کو مینڈھوں کی لڑائی کے بہانے سارے گاؤں کو باہر اکٹھا کیا گیا اور سکیم یہ تھی کہ وہاں اکٹھے ہو کر سارے گاؤں کی ناکہ بندی کی جائے اور پھر جماعت پر حملہ کیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ کی یہ تقدیر تھی کہ اس سکیم کا علم جماعت کو اس سے کچھ عرصہ پہلے اس طرح ہوا کہ ابھی وہ وہاں اکٹھے تھے کہ جماعت احمدیہ کے پریزیڈنٹ مظفر احمد صاحب کا وہاں سے گزر ہوا اور کچھ لوگ برداشت نہ کر سکے اور بجائے اس کے کہ انتظار کر کے جیسا کہ منصوبہ تھا اچانک حملہ ہوتا انہوں نے مظفر احمد صاحب پر پہلے حملہ کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق دی کہ وہ جان بچا کر ان کے نرنے سے نکل کر گاؤں پہنچ گئے اور اس کے علاوہ باوجود اس کے کہ کثرت سے لوگ مقابل پر تھے اپنے مقابل کے ایک آدمی کو بھی انہوں نے زخمی کیا اور واپس پہنچ کر گاؤں میں جماعت کو متنبہ کر دیا کہ کیا ہونے والا ہے۔ چنانچہ جب یہ نا کہ بندی کر کے اور مختلف گروہ گاؤں سے نکلنے کے رستوں پر مقرر کر کے کہ کوئی احمدی بیچ کے نکل نہ سکے واپس گاؤں میں پہنچ کر حملہ آور ہوئے تو جماعت احمد یہ اپنے دفاع کے لئے تیار تھی اور باوجود اس کے کہ ان کو میں نے مسلسل صبر ہی کی تلقین کی لیکن گزشتہ ایک خطبہ میں میں نے یہ بھی عام اعلان کر دیا تھا کہ میں اب آپ کو اپنے دفاع سے نہیں روکتا۔ صبر کریں جہاں تک ممکن ہے برداشت کریں گالیاں ذلت ہر چیز خدا کے نام پر برداشت کرتے چلے جائیں لیکن اگر آپ پر اور آپ کی عورتوں پر خصوصیت سے حملہ ہو تو ہرگز آپ نے اپنے دفاع کا حق نہیں چھوڑنا اور پھر جو بھی ہوگا خدا کی تقدیر چلے گی لیکن اپنے دفاع کے حق سے آپ باز نہیں آئیں گے۔ چنانچہ اللہ کے فضل سے باوجود اس کے کہ تعداد میں بہت تھوڑے تھے اکثر بوڑھے تھے اور عورتیں تھیں انہوں نے خدا کے فضل