خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 446
خطبات طاہر جلد ۸ 446 خطبه جمعه ۳۰ / جون ۱۹۸۹ء سربلندی کے لئے کوئی مرکز بنایا جائے تو خدا تعالیٰ اس جذبے کو قبول فرماتا ہے اور اپنے گھر کی رونق کا سامان خود ہی مہیا کیا کرتا ہے لیکن ایک پہلو سے وہ رونق ان نمازیوں پر بھی منحصر ہے جو ایسی جگہوں میں خدا کی عبادت کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔ اسی لئے میں نے کہا کہ سب سے پہلا طاقت کا سرچشمہ مومن کے دل سے پھوٹتا ہے اور اس کا تعلق اس کے اخلاص اور اس کی خدا تعالیٰ سے محبت پر بینی ہے۔ جہاں تک اس جذبے کی قبولیت کا تعلق ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے قبول ہونے کے بعد زائد فضل کی صورت میں مومن ہے مومن پر برستا ہے۔ ہے۔ یہی مضمون ہے جسے قرآن کریم نے ان ان معنوں میں بیان فرمایا کہ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف:۳۲) کہ مسجدیں تو تم بنا دیتے ہو لیکن مسجدوں کو زینت بخشنا تمہارا کام ہے۔ مسجدوں کی زینت سے تم حصہ نہیں لو گے اگر وہ ظاہری زینت ہے بلکہ مسجدوں کو زینت تم نے بخشنی ہے۔ یہ حیرت انگیز اعلان ہے جس کے متعلق میں پہلے بھی کئی دفعہ روشنی ڈال چکا ہوں لیکن بار بار جماعت کو اس مضمون کو یاد دلانا ضروری ہے۔ تیبھی یہ مساجد کے افتتاح کے موقع پر اور مشنز کے افتتاح کے موقع پر میرا دھیان ہمیشہ اس آیت کریمہ کی طرق منتقل ہو جاتا ہے۔ آجکل دنیا میں بڑی بڑی عظیم الشان حکومتیں ہیں جن کے پاس بے شمار دولت ہے اور اس نقطہ نگاہ سے جماعت احمدیہ کا ان کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں۔ زمین اور آسمان کا فرق ہے، دولت اور قوت کے لحاظ سے اور ایسی حکومتیں جو دنیا میں دولت کے لحاظ سے مشہور ہو چکی ہیں ان میں مسلمان حکومتیں بھی ہیں، ان کا اصل زر اپنی جگہ قائم رہتا ہے لیکن جو سودان کو میسر آتا ہے وہ بھی دولتوں کے پہاڑ بنا دیتا ہے اور ان کو سمجھ نہیں آتی کہ اس روپے کو کہاں خرچ کرنا ہے۔ اس کا ایک حصہ وہ مساجد کی تعمیر پر خرچ کرتے ہیں اور ان کا زور اس بات پر ہے کہ بہت ہی خوبصورت اور حسین اور عظیم الشان ا فلک بوس عمارتیں تعمیر کی جائیں جو آرکیٹیکچر کے نقطہ نگاہ سے ایک عظیم الشان تعمیری نمونے بن جائیں اور اسلام کے حسن کا ایک ظاہری Symbol نظر آئیں۔ یہ کوششیں قرآن کریم کی اس آیت کے مفہوم سے متصادم ہیں۔ قرآن کریم نے کہیں یہ ذکر نہیں کیا کہ مساجد اپنی ظاہری شان و شوکت کے نتیجے میں مومن کو زینت بخش سکتی ہیں۔ ہاں یہ فرمایا کہ مساجد کو مومن زینت بخشتا ہے۔ کتنا عظیم الشان کلام ہے، کتنا عارفانہ کلام ہے اور خدا کے تعلق کی روح کو کس شان کے ساتھ اس میں بیان فرما دیا