خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 408 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 408

خطبات طاہر جلد ۸ 408 خطبه جمعه ۱۶ جون ۱۹۸۹ء پس دو سمندر جن کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ہے یہ دو طریق سے مل سکتے ہیں ۔ اول یہ کہ مشرقی دنیا کے سمندر یا مشرقی مذاہب سے تعلق رکھنے والے سمندر : جب مغربی دنیا اور مغربی مذاہب کے ساتھ آپس میں اختلاط کریں تو دونوں اپنی اپنی برائیاں دوسرے میں سرایت کر دیں اور ایک یہ پہلو بھی ہو سکتا ہے کہ نسبتاً جو اچھی باتیں کسی ایک سمندر کا خاصہ دکھائی دیتی ہیں وہ دوسرے سمندر میں سرایت کرنے کی کوشش کریں۔ یہ وہ مقام ہے جو نہایت ہی حساس مقام ہے اور انسانی تاریخ کے جوڑوں میں اس سے زیادہ اہم اور نازک جوڑ شاید ہی کبھی پہلے آیا ہو۔ اس مقام پر جماعت احمدیہ کو ایک کردار ادا کرنا ہے اور جماعت احمدیہ کے سپرد یہ ذمہ داری کی گئی ہے کہ جہاں جہاں اسلام کا سمندر غیر اسلامی اقدار سے ملتا ہے وہاں اسلام کا سمندر نیکیاں سرایت کرنے والا سمندر بنے اور بدیاں قبول کرنے والا سمندر نہ بنے۔ اس پہلو سے یہ دو سمندر عملاً چار سمندر دکھائی دیں گے۔ ایک تو وہ سمندر جو ظاہری دنیا میں ، ظاہری صورت میں ہمیں دکھائی دیتے ہیں یعنی قوموں کے بڑے بڑے گروہ جو سمندر کی طرح عظمتیں اختیار کر چکے ہیں اور جو ہمیشہ ایک دوسرے پر چڑھائی کرتے رہتے ہیں۔ ایک کی موجیں دوسرے کی طرف حملہ آور ہوتی ہیں اور دوسرے کی موجیں پہلے کی طرف حملہ آور ہوتی ہیں اور پھر بسا اوقات یہ گہرا ایک دوسرے کے اندر داخل ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے حالات کو متاثر کرتے ہیں۔ ایک اور دو سمندر ہیں جو اسی آیت کی تفصیل میں تصور میں لائے جاسکتے ہیں اور وہ تصور ہیں اسلام کو سچائی کا علمبردار تصور کرتے ہوئے اسلام کی ایسی روحانی طاقت کو مد نظر رکھتے ہوئے جو محض نظریاتی نہ ہو بلکہ بعض مسلمانوں کی عملی زندگی میں سرایت بھی کر چکی ہو۔ اس سمندر کا مقابلہ اس بیرونی دنیا کے سمندر سے کیا جائے جو سب کے سب اپنی مجموعی حیثیت سے اسلام کی اعلیٰ کردار کے خلاف کسی رنگ میں کوشش کر رہے ہیں۔ اس دوسرے پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کے اوپر سب سے زیادہ عظیم ذمہ داری عائد : ہوتی ہے اور وہ احمدی جوان سمندروں میں بس رہے ہیں جن میں سے ایک سمندر کا نام کینیڈا ہے اور ایک اور سمندر کا نام امریکہ ہے اور ایک اور سمندر چھوٹے چھوٹے سمندروں پر مشتمل ایک بڑا سمندر بننے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ یورپین ممالک ہیں۔ اسی طرح اشتراکی ممالک کے سمندر ہیں جہاں جہاں احمدیت داخل ہوتی ہے، سرایت کرتی ہے وہاں يَلْتَقِینِ کے مناظر دکھائی دے رہے ہیں۔ وہاں