خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 368 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 368

خطبات طاہر جلد ۸ 368 خطبه جمعه ۲ / جون ۱۹۸۹ء بزرگوں کی تصویروں کے ساتھ یہ تاکید ضروری ہے ، خصوصاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصاویر کے ساتھ کہ اپنے نفوس کا جائزہ لیا کریں کہ ان سے کسی طرح کوئی دور بعید کا شرک کا تصور تو نہیں پیدا ہو رہا۔ جب میں شرک کا تصور کہتا ہوں تو آپ میں سے غالباً تمام یہ سوچیں گے کہ نعوذ بالله من ذالك ہم تو موحد جماعت ہیں ، توحید کی خاطر قائم کئے گئے ، تمام دنیا کو امت واحدہ بنانا ہے، خدائے واحد کے قدموں میں اکٹھا کرنا ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم جو مواحد جماعت ہیں اور دنیا کو تو حید سکھانے کے لئے نکلے ہیں ۔ ہم مشرکانہ خیالات میں مبتلا ہو جائیں لیکن میں آپ کو بتاتا ہوں کہ قرآن کریم نے مطلع فرمایا ہے، متنبہ کیا ہے کہ شیطان ایسی ایسی جگہوں سے حملے کرتا ہے جن کے متعلق آپ تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ وہ چھپ کے اپنی کمین گاہوں سے آپ پر حملے کرتا ہے اور بسا اوقات شرک کا آغاز محسوس بھی نہیں ہوتا ۔ ایک دفعہ مجھے خود ذاتی طور پر اس قسم کے ایک حملے کا تجربہ ہوا۔ ربوہ کی بات ہے بہت پرانی کوئی پچھیں تھیں سال کی بات ہے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر، اول تو میں اسی وجہ سے لگاتا نہیں تھا پہلے اپنے گھر میں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عموماً اس کو پسند نہیں فرمایا، پھر چونکہ دیکھا کہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت اس کی عادی ہو چکی ہے اور ایک عام تصویر کے طور پر دیکھتی ہے اس کے ساتھ کسی قسم کی غیر معمولی عظمت کا خیال منسلک نہیں کرتی اور پھر آنے والوں کے لئے اور اس خیال سے کہ بچے دیکھیں اور ان کو پتا تو ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کون تھے اور ان کی پاکیزہ صورت سے ان کے دل پر نیک اثر پڑے۔ میں نے بھی تصویر لگائی لیکن ایک دفعہ جب میں اس کمرے میں کپڑے بدل رہا تھا اچانک مجھے شرم سی محسوس ہوئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر کے سامنے اور وہ پہلی خطرناک الارم کی گھنٹی تھی جو میرے اندر بجی۔ مجھے خیال آیا کہ یہ کیسی مشرکانہ بات ہے۔ تصویر سے اس خیال سے میں شرما رہا ہوں کہ میں تصویر کو دیکھ رہا ہوں حالانکہ تصویر کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ تصویر کو دیکھ کر یہ خیال کر لینا کہ ہم اس تصویر کے سامنے بری باتیں نہ کریں۔ پھر یہ ساری باتیں پھر میرے ذہن میں اُبھرنی شروع ہوئیں۔ تصویر کو دیکھ کر یہ خیال پیدا ہو کہ بعض حالتوں میں تصویر الٹی کر دی جائے ، بعض میں سیدھی کر جائے ، کوئی بیهوده حرکت کرد رکت کرنی ہو تو تصویر کو الگ کہ الگ کر دیا جائے یہ سارے شا ہائے یہ سارے شرک اسی رستے سے د سے داخل ہوتے ہیں اور