خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 29
خطبات طاہر جلد ۸ 29 خطبه جمعه ۱۳ جنوری ۱۹۸۹ء کامل طور پر حاصل ہو گئی ہے اور انحصار کلیہ خدا کی ذات پر ہو چکا ہے لیکن دنیا کے محسوسات کے مطابق انسانی محسوسات کے مطابق انسان جدائیوں کو کچھ نہ کچھ محسوس ضرور کرتا ہے لیکن ان دونوں چیزوں میں بڑا فرق ہے۔ ایک عام انسان کا اپنے نقصان کو محسوس کرنا اور ایک ایسے انسان کا محسوس کرنا جس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تبتل کے نتیجے میں تعلق قائم ہو چکا ہے۔ ایسے لوگوں کی روحیں آسانی سے نکلتی ہیں۔ اس مضمون کے متعلق بھی ایک غلط فہمی ہے جو میں آپ پر کھولنا چاہتا ہوں ۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خاموشی سے بغیر تکلیف کے جو مر جائے وہ گویا کہ تبتل کی نشانی ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ تبتل روحانی معنوں میں ہوا کرتا ہے اور بعض دفعہ خدا کے نیک بندے بھی ایسی جسمانی اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اس سے وہ بے چینی محسوس کرتے ہیں ۔ اُن کو دنیا چھوڑنے کی بے چینی نہیں ہوا کرتی ۔ دنیا چھوڑنے کے وقت جو تکلیف ہو رہی ہوتی ہے مادی جسمانی اس کی بے چینی ہوتی ہے۔ پس حضرت اقدس محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی آخری لمحات میں جو بیماری کی بے قراری تھی وہ بشری تقاضا تھا۔ بیماری کی وجہ سے آپ کا جسم تکلیف محسوس کرتا تھا اور جتنا خدا سے تعلق بڑھتا ہے انسان زود حس ہوتا چلا جاتا ہے۔ تکلیف پر واویلا بے شک نہ کرے لیکن ہر نفیس طبیعت والے انسان کو تکلیف زیادہ محسوس ہوا کرتی ہے۔ اس لئے یہ کہنا کہ جو شخص آرام سے جان دے دے وہ بڑا ولی اللہ ہے اور جس کی جان مشکل سے نکلے وہ نعوذ بالله من ذالك خدا سے دور ہے یہ بالکل غلط بات ہے۔ یہ وہ بات ہے جو حقیقت میں خدا کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ ایک انسان جب اپنے پیاروں سے جدا ہو رہا ہوتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ میں خدا کی طرف جا رہا ہوں ۔ اس وقت اس کی روح کے اندر ایک مواز نہ ہو رہا ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب یہ اختیار دیا گیا تو آپ نے بار بار عرض کیا في الرفيق الأعلى في الرفيق الأعلى في الرفيق الاعلى (بخاری کتاب المغازی حدیث نمبر : ۴۴۳۸) اے میرے خدا میرا چین تو تیری ذات ہے۔ میرا آسمانی رفیق یہ نہیں فرمایا کہ صرف تو ہی رفیق ہے اور بھی رفقاء تھے، دنیاوی رفیق بھی تھے ان کے اور خدا کی رفاقت کے درمیان جب یہ فیصلہ تھا کہ اب ان کو کلیہ چھوڑنے کے بعد ایک رفاقت عطا ہونی ہے تمہیں ۔ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل کی صدا تھی فی الرفيق الأعلى، في الرفيق الاعلیٰ جب بھی مقابلہ ہوگا ، جب بھی