خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 333 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 333

خطبات طاہر جلد ۸ 333 خطبه جمعه ۱۹ مئی ۱۹۸۹ء تیری نبوت اور تیرے تقدس کی حفاظت فرمائے گا۔ اتنے قومی وعدوں کے بعد اور یہ بتا کر کہ شیطان کو تیری وحی میں کوئی دخل نہیں ہے پھر ان علماء کا ان باتوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہہ دینا کہ گویا نعوذ باللہ من ذالک آنحضرت ﷺ کی نبوت پر ڈاکہ پڑ گیا ہے۔ اتنی بے حیائی ، اتنی گستاخی کہ تعجب ہے کہ حکومت پاکستان بھی ایسے غلیظ الزام لگانے والے ملانوں کے خلاف حرکت میں کیوں نہیں آئی؟ اسلام کے نام پر قائم ہوئی ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق کوئی غیرت نہیں دکھائی ۔ یہ کیوں نہیں کہا ان کو کہ صلى الله اے بے غیر تو ! محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والا ہے کون، کون پیدا ہوا ہے جو محمد رسول صلى الله اللہ ﷺ کی نبوت پر ڈاکہ ڈال سکے؟ ا صلى الله پھر یہ کہ اگر نبوت کا دعویٰ جھوٹا ہے تو وہ تو خدا پر ڈاکہ ہے اور قرآن کریم نے یہی فرمایا ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے اگر کوئی جھوٹ بولتا ہے مجھ پر جھوٹ بولتا ہے اور میرا فرض ہے کہ میں اس کو ہلاک کروں ۔ دشمن کا کام نہیں ہے، یہ انسان کا کام نہیں ہے۔ پس خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے میرے تقدس پر اور میری عظمت پر اور میری سچائی پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میں اس کوشش کو ناکام بنا دیتا ہوں۔ ایسے شخص کو ہلاک کر دیا کرتا ہوں۔ پس دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں یا محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اگر کوشش کی گئی تھی تو خدا فرماتا ہے کہ میں اس کوشش کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دوں گا لیکن ایسی شکل نہیں ہے۔ نبوت کا معاملہ بندے اور خدا کے درمیان ہے اور دراصل نبوت کے دعوے کا مطلب یہ ہے کہ مجھے خدا نے کچھ کہا اور میں خدا کا امین بن کر، خدا کے نے پیغام کا امین بن کر اس کا پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں ۔ اس صورتحال میں اصل ڈا کہ خدا تعالیٰ کے تقدس اور اس کی عظمت پر ان معنوں میں ہے کہ ایک بیہودہ بات کی کوشش کی گئی۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ چنانچہ خدا فرماتا ہے میرا کام ہے پھر ایسے لوگوں کو ذلیل و رسوا کروں اور اپنی سچائی کے تقدس کی حفاظت کروں ۔ چنانچہ قرآن کریم میں فرعون کے زمانے کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ کے دعوے سے اشتعال کھا کر ۔ اُس زمانے میں بھی بڑے اشتعال کھانے والے علماء موجود تھے۔ یہ دیکھ کر کہ ایک شخص کہتا ہے میں خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں ساری قوم کو اشتعال آ گیا اور فرعون کو سب سے بڑھ کر اشتعال آیا اور ان کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہوئے اس مجلس میں اور انہوں نے سوچا کہ یہ شخص خدا کا پیغامبر بندہ ہے اس سے زیادہ اشتعال دینے والی اور کونسی