خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 329 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 329

خطبات طاہر جلد ۸ 329 خطبه جمعه ۱۹ مئی ۱۹۸۹ء برداشت نہ کرتے ہوئے وہ بھی جوابی حملے شروع کریں گے اور اگر ایک دفعہ انہوں نے ایسا کیا تو وہ سمجھتے ہیں کہ پھر ہم ساری قوم کو دھوکہ دیں گے اور ان کو کہیں گے کہ دیکھو احمدیوں نے یہ ظلم کئے، تمہارے فلاں کو مار دیا، تمہارے فلاں کو مار دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر احمدی مقابل پر نکلیں تو کمزور ہونے کے باوجود وہ تعداد میں، بھاری تعداد میں بڑی اکثریت پر بھی غالب آنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے ہندوستان کی تاریخ میں جب ابھی جماعت بہت چھوٹی تھی ایسے بارہا واقعات ہو چکے ہیں۔ دہلی کے جلسے میں جو واقعہ گزرا مصلح موعود کے جلسے میں میں بھی وہاں موجود تھا۔ چند ہزار احمدی تھے اس کے مقابل پر دلی کا لکھوکھہا کا عظیم شہر تھا اور اس میں سے مسلمان ، بعض بد قسمت مسلمان علماء کے اکسائے ہوئے اور انگیخت کئے ہوئے لاکھوں مسلمان تھے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے ایک انبوہ کثیر ہے جس نے جلسے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ اس وقت ان سے غلطی ہوئی کہ انہوں نے عورتوں کے خیمے پر حملہ کر دیا اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تقریر کے وقت جب یہ دیکھا کہ عورتوں کی طرف ان کا رخ ہو گیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہمارے صبر کا پیمانہ بہت وسیع ہے لیکن اس کی ایک حد ہے۔ اگر ہماری عورتوں کی طرف تم نے بد نظر سے دیکھا اور ہاتھ اُٹھایا تو ہم کسی قیمت پر اس کو برداشت نہیں کریں گے۔ پھر جو کچھ ہوگا ہو جائے ۔ آپ کا یہ کہنا تھا کہ احمدی نوجوان اس خیمے کی طرف لپکے ہیں اور آنا فانا اس انبوہ کثیر کے پاؤں ایسے اکھڑے ہیں جیسے سیلاب کی موجیں کسی چیز کو بہا کر لے جا رہی ہوں ۔ ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔ ایسا عجیب نظارہ تھا ، اس کا ایسا رعب تھا کہ دوسرے یا تیسرے دن دتی کے اسٹیشن پر جب میں جارہا تھا ، داخل ہونے لگا تو میں نے اپنا ٹکٹ نکالا دکھانے کے لئے تو وہ جو اسٹیشن کا گارڈ تو نہیں مگر جو بھی افسر موجود تھا ٹکٹ دیکھنے کے لئے اس نے مجھے کہا کہ میاں آپ احمدی ہیں آپ کا ٹکٹ دیکھنے کی میں جرات نہیں کر سکتا جو ہم سے ہو چکی ہے پہلے مجھے پتا ہے۔ یعنی یہ رعب کی کیفیت تھی ۔ اتنا بڑا شہر اتنا عظیم شہر اور اتنا طاقتور شہر۔ پس یہ کوئی احمدیت کا کمال نہیں ہے۔ یہ خدا کی طرف سے ایمان کو ایک رُعب دیا گیا ہے، ایمان کو ایک ہیبت عطا کی گئی ہے۔ جب بھی ایمان ٹکراتا ہے غیر ایمانی جہالت سے اور جوشوں سے تو ایمان کو ہمیشہ غلبہ نصیب ہوتا ہے۔ اس لئے علماء کو یہ بھی پتا ہے کہ اگر احمدی نوجوان اٹھیں گے تو لازماً اپنے مقابل کو زیادہ سخت ماریں گے اور اس کے نتیجے میں پھر یہ فسادات پھیلا دیں گے ہر طرف اور بہت سے ایسے علاقے ہیں