خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 25
خطبات طاہر جلد ۸ 25 خطبه جمعه ۱۳ جنوری ۱۹۸۹ء نے آپ کو سمجھایا ہے یعنی اپنے نفس میں ڈوب کر فرار الی اللہ اختیار کرنا شروع کریں تو سارا معاشرہ ان بدیوں سے ۔ پاک ہو جائے گا۔ بجائے اس کے کہ غیر ہمارے شر سے پناہ مانگیں ، سے پناہ ما میں یہ وہ مقام ہے جہاں شرور انفسنا کی دعا حقیقت اختیار کر جاتی ہے جب انسان یہ کہتا ہے اے خدا ہمیں اپنے نفس کے شر سے بچا تو ایسا انسان جب دعا کرتا ہے ضروری نہیں حقیقی معنوں میں دعا کر رہا ہو کسی ایسے شخص کی یہ دعا قبول نہیں ہوسکتی جس کے شر سے اس کے ساتھ نہیں بیچ رہے۔ جس کے شر سے اس کے بھائی، اس کی بہنیں ، اس کا معاشرہ نہیں بچتا وہ اگر خدا کے حضور دن رات یہ وظیفے کے طور پر تکرار کرتا رہے کہ اے خدا مجھے میرے نفس کے شرور سے بچا، اے خدا ہمیں ہمارے نفس کے شرور سے بچا اس کی دعا کوئی بھی معنے نہیں رکھے گی ۔ جب تم غیر کو اپنے نفس کے شر سے نہیں بچاتے تو اپنے آپ کو کیسے اپنے نفس کے شر سے بچا رسے بچا سکتے ہو ۔ اس لئے پہلے اپنے شرور کو اپنی ذات کے دائرے میں تو محدود کرو۔ غیر کو پناہ دے دو پھر یہ دعا کرو پھر اندر کا سفر جو بہت ہی مشکل سفر ہے وہ دعا کی مدد سے آسان ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ دعا کے بغیر یہ سفر اختیار کرنا اور منزلیں طے کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس سے اگلا مقام ہے جسے تبتل کا مقام کہا جاتا ہے۔ فرار خوف سے تعلق رکھتا ہے اور تقتل طمع سے تعلق رکھتا ہے۔ چنانچہ فرار اور تقبل کے مضمون کو اگر سمجھنا ہو تو قرآن کریم کی یہ آیت اس کی تشریح کرتی ہے تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (السجدہ :(۱۷) کہ خدا کے بندے کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کے پہلو راتوں کو اپنے بستروں اور آرام گاہوں سے الگ ہو جاتے ہیں يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں خوف کی وجہ سے بھی اور طمع کی وجہ سے بھی ۔ خوف کی وجہ سے خدا کو پکارنا اور اس کی مدد چاہنا یہ فرارالی اللہ کے مضمون سے تعلق رکھتا ہے اور طمع کی وجہ سے خدا کی طرف بڑھنا اور دوسروں سے اپنا تعلق توڑ لینا یہ تَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا (المزمل: ۹) کا مضمون ہے جو فرار کے بعد انسان کو نصیب ہوتا ہے۔ پس فرار میں غیر اللہ سے انسان اس کے ڈر سے خدا کی طرف دوڑ رہا ہے اور تقبل میں اللہ کی محبت اس پر اتنا غلبہ کرتی چلی جاتی ہے کہ غیر اللہ کی طرف سے اس کا دل بجھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اسے غیر اللہ سے ایک انقطاع نصیب ہو جاتا ہے۔ یہ مضمون بھی اتنا وسیع ہے کہ سوائے خدا کے چند