خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 289
خطبات طاہر جلد ۸ 289 خطبه جمعه ۵ مئی ۱۹۸۹ء ہے وہ اسی خیانت کی تصویریں ہیں جو دن بدن زیادہ بھیانک ہوتی چلی جارہی ہیں ، زیادہ سیاہ ہوتی چلی جا رہی ہیں، زیادہ مکروہ ہوتی چلی جا رہی ہیں اور خصوصاً تیسری دنیا کے ممالک میں تو بد دیانتی سے گلی گلی ، شہر شہر، گھر گھر بھر گئے ہیں۔ کوئی کسی زندگی میں ، زندگی کے کسی پہلو میں کسی جگہ بھی تسکین اور طمانیت نہیں ہے، اعتماد اٹھ گئے ہیں۔ اس لئے کہ کم و بیش کا ہر شخص خائن بن چکا ہے۔ پس خیانت کا مضمون بھی بہت ہی اہمیت رکھتا ہے یعنی خیانت سے بچنے کا مضمون اور امانت پر قائم رہنے کا مضمون غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پس حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی یہ دو بنیادی صفات ایسی ہیں جن کو صلى عروسه اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھنا ہوگا ۔ جس طرح ظفر نے کہا تھا کہ ع میں نے چاہا تھا اس کو کہ روک رکھوں الله میری جان بھی جائے تو جانے نہ دوں ( کلیات ظفر) اس طرح ان دونوں صفات حسنہ سے چمٹ جائیں اور وابستہ پختہ ہو جائیں۔ اگر آنحضرت ﷺ سے سچی محبت ہے تو یہ سوچیں کہ وہ کیوں محبوب وجود بنے ؟ یہ دو بنیادی صفات تھیں جو محد کی تخلیق کا آغاز بن گئیں ۔ کیونکہ ان کے ساتھ محمد مصطفی ﷺ کی مٹی گوندھی گئی ہے۔ یہ وہ خمیر ہے جس سے رسول اکرم ﷺ کی رسالت تشکیل پائی ہے۔ پس اس خلاصہ کو اپنا حرز جان بنالیں ، اپنے وجود میں ، اپنے رگ و پے میں داخل کر لیں ۔ کیونکہ آپ نے باقی دنیا کو اور آئندہ آنے والی دنیا کو بہت سے پیغام پہنچانے ہیں، بہت سی نیک خلصتیں ان کی نسلوں میں منتقل کرنی ہیں، نسلاً بعد نسل منتقل کرنی ہیں۔ آپ کو خدا نے وہ مقام عطا کیا ہے کہ اس صدی کے سر پر آپ کھڑے ہیں اور یہ بہت ہی بلند مقام ہے اور بہت ہی ذمہ داری کا مقام ہے۔ پس اس خطبۃ الوداع میں جو جمعۃ الوداع کا خطبہ ہے میں آپ کو سچائی اور امانت کی طرف خصوصیت کے ساتھ بلاتا ہوں اور یہ دو چیزیں جب آپ کی ذات میں اکٹھی ہو جائیں تو آپ لازماً مسلم بن جاتے ہیں کیونکہ مسلم کی جو تعریف آنحضرت ﷺ نے فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی ذات سے کسی دوسرے کو کوئی خطرہ نہ رہے، کوئی گزند نہ پہنچے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اگر آپ سچائی پر قائم ہوں اور اگر آپ امین ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت آپ سے خوف نہیں کھا سکتی ۔ ان معنوں میں خوف نہیں کھا سکتی کہ آپ سے کوئی گزندان کو نہیں پہنچے گا آپ پر کامل اعتماد اس کو پیدا ہو جائے گا۔ ہاں دوسرے