خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 268

خطبات طاہر جلد ۸ 268 خطبه جمعه ۲۸ را پریل ۱۹۸۹ء صلى الله ہے فَامَنَ لَهُ لُوطٌ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرُ إِلَى رَبِّي إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (العنکبوت: ۲۷) کہ لوط ابراہیم پر ایمان لے آئے اس وقت ابراہیم نے یہ کہا کہ میں تو اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ یقیناً وہ عظیم الشان غلبے کا مالک خدا ہے اور بہت ہی حکیم ہے، بہت معزز ہے اور بہت صاحب حکمت ہے۔ یہاں میں نے یہ ترجمہ کیا اني مُهَاجِر میں ہجرت کرنے والا ہوں ۔ عموماً یہی ترجمہ قرآن کریم کے تراجم میں ملتا ہے لیکن ایک اور ترجمہ بھی ممکن ہے اور میرے نزدیک وہی زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں تو ہمیشہ اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا چلا جاتا ہوں اور ایک لمحہ بھی میری زندگی میں ایسا نہیں آتا کہ میں اپنے رب کی طرف مہاجر نہ ہوں یعنی ہجرت نہ کر رہا ہوں ۔ یہ ترجمہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کی تصدیق کی سند رکھتا ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں میں وہ حدیث بھی آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس سے آپ کو معلوم ہو گا کہ مہاجر کی صحیح تعریف کیا ہے؟ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہجرت کی دو نشانیاں ہیں۔ ایک یہ ہے کہ تو برائیاں چھوڑ عليه ۔ دے اور دوسری یہ ہے کہ تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرے اور یہ ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہوگی جب تک تو بہ قبول نہیں کی جاتی اور تو بہ اس وقت تک مقبول ہوتی رہے گی یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو ( مسند احمد بن حنبل جلد اول حدیث نمبر : ۱۶۷۱) یعنی توبہ کی مقبولیت کا مضمون بھی ابدی ہے اور یہ خیال کر لینا کہ کوئی ایسا وقت آئے گا انسانی زندگی پر جب اس کی توبہ قبول اور اس کے بعد اس کو مزید تو بہ کی ضرورت نہ رہے گی۔ یہ ایسا ہی خیال ہے جیسے کوئی انسان سوچے کہ سورج مغرب سے نکل آئے گا۔ آنحضرت ﷺ علی نے جس سورج کے مغرب رب سے نکلنے کا ذکر فرمایا ہے وہ اور مضمون ہے۔ یہاں طرز بیان یہ ہے کہ جس طرح یہ ناممکن ہے کہ مادی سورج کبھی مشرق کو چھوڑ کر مغرب سے طلوع کر جائے ویسے یہ بھی نا ممکن ہے کہ انسان تو بہ کی اس آخری حالت کو پالے جس کے بعد کسی اور توبہ کی ضرورت باقی نہ رہے اور چونکہ یہ ممکن نہیں ہے اس لئے انسانی ہجرت کا سفر کبھی بھی طے نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس کو آنحضور ﷺ نے مقبولیت تو بہ سے باندھ دیا۔ پس جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوة والسلام یہ عرض کرتے ہیں خدا کے حضور یا بندوں کو یہ بتاتے ہیں کہ اني مُهَاجِرُ میں اپنے رب کی طرف مہاجر ہوں تو اس سے مراد یہ ہے کہ میں ہر لمحہ، اپنی زندگی کا صلى الله