خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 251
خطبات طاہر جلد ۸ 251 خطبه جمعه ۲۱ را پریل ۱۹۸۹ء بھی نہیں تھا کہ اتنی عظیم روحانی مسرتیں ہمیں نصیب ہوں گی ۔ اور پھر ایک جگہ یہ واقعہ ہوا اس ٹیلیویژن نے دوسرے ٹیلی ویژن کو یہ اپنی فلمیں بھیجوائیں انہوں نے ان کو دکھایا۔ پھر انہوں نے سنٹر میں بھجوائیں انڈیا کے دہلی میں اور دہلی سنٹرل ٹیلی ویژن یا نیشنل ٹیلی ویژن نے پھر ان نظاروں کو دکھایا اور سارے ملک میں اس کا چرچا ہوا اور یہاں تک کہ بمبئی میں جہاں کی جماعت کی تعداد بہت ہی مختصر، بہت ہی چھوٹی ہے اور بہت بڑا شہر ہے۔ ایک عظیم الشان شہر ہے۔ بمبئی کے بعض حصے تو یورپ کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہروں کا مقابلہ کرتے ہیں اور بعض حصے اتنے پسماندہ ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت وہاں جانوروں سے نچلی سطح پر بس رہی ہے اور بے شمار انسان ہے جو کہ سڑکوں پر پھیلا پڑا ہے۔ وہیں رہتا ہے، وہیں سوتا ہے ، وہیں جاگتا ہے، وہیں اپنی ضروریات پوری کرتا ہے۔ اس پہلو سے بھی وہاں کوئی حیثیت نہیں جماعت کی جہاں دس دس پندرہ پندرہ لاکھ کے جمگھٹ ہیں سڑکوں پر بسنے والے وہاں جماعت کا نام ہی نہیں پہنچ سکتا، کوئی سن ہی نہیں سکتا ان علاقوں میں جماعت کو رسائی نہیں ہے اور جہاں اتنی دنیاوی عظمتیں ہوں اور شانیں ہوں وہاں بھی جماعت کو کوئی حیثیت نہیں دی جاتی لیکن مجھے جور پورٹ کل ملی ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ مسلسل تین دن تک ٹیلی ویژن پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر اور پھر میرا پیغام اور تصویر کے ساتھ پھر بار بار جماعت کے تذکرے، جماعت کے جو غیر معمولی کام ہیں بنی نوع انسان کی خدمت کے سلسلے میں، : جماعت کے مقاصد کیا ہیں اور جماعت کے عقائد کا باقیوں سے فرق کیا ہے؟ کون سے اصول ہیں جن پر جماعت ہمیشہ سے قائم ہے؟ کیا کیا عظیم قربانیاں دیتی رہی ہے اور دیتی چلی جا رہی ہے؟ یہ تمام باتیں بار بار دہرائی گئیں۔ تو یہ رپورٹیں ہمیں بتا رہی ہیں کہ یہ خدا کے فضل کے ساتھ آسمان کی تحریک ہے انسانوں کا اس میں کوئی دخل نہیں ۔ افریقہ کے بعض ایسے ممالک جہاں سوائے ہماری دشمنی کے اور کوئی پراپیگنڈا کرنے کی اجازت نہیں تھی ، جہاں ہمارے مبلغ کو قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑتی تھیں ادنی سی بات کے اوپر ان کو جیلوں میں گھسیٹا جاتا تھا اور بہت ہی تکلیفیں دی جاتی تھیں ایسے بھی بعض ممالک ہیں افریقہ میں اور اچانک وہاں کایا پلٹ گئی، فضا تبدیل ہو گئی اور ریڈیو اور ٹیلی ویژن تو وہاں نہیں ہے غالباً لیکن ریڈیو اور اخبارات نے بہت نمایاں طور پر جماعت کی خبریں نشر کرنا شروع کر دیں۔ D: Tahir Foundation 1989\2nd Proof 04 April 21-04-1989