خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 246 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 246

خطبات طاہر جلد ۸ 246 خطبه جمعه ۱۴ اپریل ۱۹۸۹ء صلى الله علی ایک اسی قسم کا وقت جنگ بدر کے موقع پر حضرت محمد مصطفیٰ اور آپ کے غلاموں پر صلى الله بھی آیا۔ اس وقت آنحضرت ﷺ نے بار بار جب صحابہ سے مشورہ مانگا اور آپ کی مراد یہ تھی کہ عروسه صلى الله انصار مجھے کیا مشورہ دیتے ہیں۔ تو مقداد بن اسود نے آنحضور ﷺ کی خدمت : علم کی خدمت میں یہ بات یہ بات عرض کی اور یہ بات ایسی ہے جو جو ہمیشہ کی زندگی پاگئی ہے، انمٹ ہے۔ دنیا میں اور باتیں خدا اور رسولوں کی باتوں کے علاوہ مٹ جائیں مگر یہ بات کبھی نہیں مٹ سکتی ۔ ایسی اس میں عظمت ، ایسی محبت ، ایسی والہیت ، ایسا عشق، ایسی وفا ہے کہ اسلام سے وابستہ کوئی انسان کبھی اس کو بھول نہیں سکتا نہ بھلانے دے گا۔ انہوں نے عرض کیا لا نقول كما قال قوم موسى اذهب انت و ربك فقاتلا كه اے ہمارے آقا ہم ہرگز یہ نہیں کہیں گے جو موسیٰ کی قوم نے موسیٰ سے کہا تھا۔ اذهب انت و ربك فقاتلا جاتو اور تیرا خدالڑتے رہو ، لڑتے پھرو۔ ہم کون ہیں ، ہمارے جذبات کیا ہیں؟ انہوں نے عرض کیا ولكنا نقاتل عن يمينك و عن شمالك و بين يديك وخلفك ( بخاری کتاب المغازی حدیث نمبر: ۳۹۵۲) اے ہمارے آقا ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے، آپ کے بائیں بھی لڑیں گے، آپ کے آگے بھی لڑیں گے، آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن نہیں پہنچ سکتا آپ تک جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔ صلى الله علوس یہ وہ جواب تھا جو حضرت اقدس محمد مصطفی علی کو آپ ۔ کے انصار نے دیا تھا اور میں جانتا ہوں کہ اگر میں نے سخت وقتوں کی طرف جماعت کو بلایا تو یہی وہ جواب ہے جو ساری جماعت مجھے دے گی صلى الله علی کیونکہ میری اپنی ذات میں کوئی بھی حیثیت نہیں میں محمد مصطفی ﷺ کا پیغام ، آپ کے قرآن کا پیغام ، آپ کی سنت کا پیغام پہنچانے کے سوا اور کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور میں جانتا ہوں کہ جماعت احمد یہ آنحضرت ﷺ اور اللہ کے عشق میں ایسی مگن ہے اور ایسی وفادار ہے کہ جواب بعد میں آنے صلى الله کی تو دور کی بات ہے یا دیر کی بات ہے۔ میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں جب میں نے یہ بات سوچی تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے شہد کی مکھیوں کا چھتا شہد کی ملکہ کو گھیر کر چاروں طرف سے سفر کر رہا ہوتا ہے اس وجہ سے ایک عجیب بھنبھناہٹ کی آواز آ رہی ہوتی ہے جو دل پر غیر معمولی اثر کرنے والی ہے۔ اس میں ایک قوت ہے، ایک شوکت ہے، ایک رعب ہے اور جس نے بھی وہ آواز سنی ہے اس سے مرغوب ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میں نے جب یہ بات سوچی تو میرے گوشتہ تصور میں ، میرے روحانی