خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 232 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 232

خطبات طاہر جلد ۸ 232 خطبه جمعه ۱۴ اپریل ۱۹۸۹ء کی ہوئی ہے صبر کا کامل نمونہ دکھایا۔ یہاں تک کہ دوسرے دن جب باہر کی جماعتوں سے لوگ وہاں پہنچے ہیں تو اگرچہ فوری طور پر ان کی مدد کا انتظام جماعت کی طرف سے کیا گیا لیکن یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی کہ مقامی دوستوں نے انسانی قدروں کو مرنے نہیں دیا اور بعض جگہ تو بہت ہی غیر معمولی شفقت اور رحمت کا سلوک کیا ہے۔ یہ میں اس لئے آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ واقعات ایسے ہیں جو جذبات میں ایک قیامت مچا دیتے ہیں اور جتنی محبت احمدی کو احمدی سے ہے اس کی کوئی مثال دنیا میں نظر نہیں آتی۔ دنیا کے کونے کونے میں زمین کے کناروں تک جب یہ خبر پہنچی ہے یا پہنچے گی تو اس طرح جماعت کرب میں مبتلا ہو جائے ائے گی جس طرح ان کے عزیز ترین پیاروں، رشتہ داروں کو کسی نے ظلم کا نشانہ بنایا ہے۔ فاصلے کوئی حیثیت نہیں رکھتے ، قوموں کے فرق کوئی حیثیت نہیں رکھتے ، جغرافیائی تقسیمیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ ایک جماعت ہے محمد مصطفی ﷺ کے غلاموں کے صدقے ساری دنیا کی جماعت بھائیوں کی طرح ایک ہو چکی ہے۔ صلى الله اس ضمن میں جہاں تک جماعت کے رد عمل کا تعلق ہے پہلے ایک رد عمل میں بیان کرتا ہوں اور باقی باتیں بعد میں جس کا مزید پس منظر بیان ہونے والا ہے اس کے بعد پھر بات کروں گا۔ ایک رد عمل تو وہی ہے جس کی تمہید میں باندھ چکا ہوں ۔ جو الہی جماعتوں میں للہی محبت پائی جاتی ہے اس کے نتیجے میں اگر ایک جز کو تکلیف پہنچے تو دوسرا حصہ اس تکلیف سے بھاگتا نہیں بلکہ اس کی طرف لپکتا پہنچے سے ہے اس عضو کی طرف جس کو تکلیف پہنچی ہے۔ ہر زندہ نظام میں یہ قدر مشترک ہے۔ زندگی کی جتنی بھی شکلیں دنیا میں موجود ہیں ان میں یہ بات آپ ہمیشہ مشترک پائیں گے کہ اگر جسم کے کسی حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو باقی جسم کا حصہ اس کو چھوڑ کر اس کی طرف پیٹھ نہیں کرتا بلکہ اس کی طرف بے اختیار لپکتا ہے اور بعض دفعہ یہ رد عمل اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ محبت ہی مصیبت بن جاتی ہے اور خون کا دوران اس تیزی سے اس ماؤف حصے کی طرف جاتا ہے کہ اس کا زیادہ جانا تکلیف کا موجب بن جاتا ہے۔ چنانچہ بعض دفعہ پھر ڈاکٹروں کو ایسے چوٹ والی جگہ پہ اور ماؤف جگہ پر برف کی پٹیاں کرنی پڑتی ہیں ٹھنڈا کرنے کے لئے کہ دیکھو اتنا تم زیادہ جوش نہ دکھاؤ تمہارا یہ جوش تمہارے اس ماؤف حصے کی تکلیف میں اضافے کا موجب ہے۔ پس اس حیثیت سے میرا بھی یہی کام ہے کہ زندہ روحانی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے میں ان کے مزاج کو خوب سمجھتا ہوں ۔ کبھی مجھے اس بات کی