خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 222
خطبات طاہر جلد ۸ 222 خطبہ جمعہ ۷ را پریل ۱۹۸۹ء ضرورت کی چیزیں ہماری پوری ہو گئیں لیکن پھر اس سے زیادہ کچھ کر کے ہم اپنے رب کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ جتنی طاقتیں اس نے ہمیں دی ہیں ان سب میں سے کچھ نہ کچھ اس کو لوٹاتے ہیں۔ وہ تمام ہماری تکالیف جن کو دور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے عظیم الشان نظام بنایا ہوا ہے اور ہمیں اجازت دی ہوئی ہے کہ جائز طریق پر ان تکالیف کو دور کریں۔ ہم کچھ عرصے کے لئے ان تکالیف کو دور نہیں کرتے بلکہ خود اپنے اوپر سہیڑ لیتے ہیں۔ غیر معمولی گرمی میں پیاس کو برداشت کرنا انسانی صحت کے لئے نہ صرف یہ کہ ضروری نہیں بلکہ بعض دفعہ سخت مضر ثابت ہوتا ہے اس لئے یہ کہنا کہ روزہ انسان کے اپنے لئے ہے یہ غلط ہے۔ بعض صورتوں میں بھوک کا مسلسل برداشت کرنا اتنا مصر ہوتا ہے کہ جو ماہر ہیں معدے اور انتڑیوں کے ڈاکٹر ان میں سے ایک ہمارے سامنے بھی بیٹھے ہوئے ہیں آج وہ کہہ دیں گے ایسے لوگوں کو کہ تم روزہ نہ رکھنا بھئی کیونکہ معدے میں السر ز ہو جائیں گے، تیزاب بڑھ جائے گا اور کئی قسم کی مصیبتیں پیدا ہوں گی ۔ تو بعض ایسی باتیں بھی رمضان میں ہمارے سامنے آتی ہیں جن کے متعلق انسانی علم ہمیں بتا رہا ہے کہ انسان کی اپنی خاطر نہیں ہے جو بہت موٹے اور اچھے معدے والے لوگ ہیں ان کو تو روزہ ضمنا فائدہ بھی دے دیتا ہے لیکن عام آدمی جس کا جسم پہلے ہی ہلکا پھلکا ہے اور جس کو کچھ تکلیف بھی ہے معدے کی ، زیادہ اس کا حساس معدہ ہے اس کا روزہ رکھنا تو ایک مصیبت سہیڑ نے والی بات ہے۔ تو مختلف قسم کی ایسی رمضان آزمائشیں لے کے آتا ہے جن کے متعلق انسان عقلاً یہ کہہ سکتا ہے کہ ہمارے لئے مفید نہیں ہے۔ مگر خالصہ اللہ کرتا ہے۔ اس کے سوا ایک بھی عبادت نہیں جس کے متعلق آپ عقلاً یہ کہ سکیں کہ ہمارے لئے مفید نہیں ہے۔ جہاں جس حد تک وہ مفید نہیں ہوتی وہاں وہ اس حد تک خدا رعایت دیتا چلا جاتا ہے اور رمضان میں بھی ایک موقع پہ جا کے رعایت فرما دیتا ہے۔ یہ فرما دیتا ہے کہ اچھا تم میری خاطر کرنا تو چاہتے ہو لیکن مجھے بھی تو تمہاری خاطر مقصود ہے۔ اس لئے جہاں سختی ذرا حد سے بڑھے وہاں میں تمہیں ا یں اجازت دیتا ہوں کہ اچھا اب نہ رکھو بعد میں رکھ لینا لیکن رکھنا ضرورتا کہ تمہیں پتا تو لگے کہ میری خاطر آرام چھوڑ نا کیا ہوتا ہے اور میری خاطر بھوک اور پیاس کی تکلیف برداشت کرنا کیا ہوتا ہے؟ پس یہ جو مضمون ہے جسے قرآن کریم نے اس آیت میں ہمارے سامنے پیش فرمایا اور حضرت اقدس محمد مصطفیٰ علی نے اس مضمون کو ہمارے لئے حل کر دیا کہ یہ وہ ایسا مہینہ ہے جس کے بارے میں قرآن نازل ہوا ہے۔