خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 196 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 196

خطبات طاہر جلد ۸ 196 خطبه جمعه ۲۴ مارچ ۱۹۸۹ء فضلوں کو جو دیکھا ہے اس کی روشنی میں ہم یقین کے طور پر کہہ سکتے ہیں کہ مستقبل اتنا روشن ہے اور اتنا عظیم الشان ہے کہ جس طرح آج سے سو سال پہلے کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ دنیا کے ایک سوبیں ممالک میں جماعت احمد یہ پھیل چکی ہو گی اور کوئی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس سے پہلے تیرہ سو سال میں ساری دنیا کے مسلمانوں نے جتنی زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم کئے ہیں اس سے دوگنی زبانوں میں چند سال میں جماعت احمدیہ کو توفیق ملی تراجم کر کے ساری دنیا میں اس مقدس صحیفے کے ترجمے کو پھیلا دے۔ کوئی وہم کر سکتا تھا اس زمانے میں؟ پس آج آپ بھی وہم نہیں کر سکتے ، سوچ بھی نہیں سکتے کہ خدا کی رحمتوں نے کیا کیا آپ کے لئے مقدر کر رکھا ہے۔ پس میں ربوہ کے رہنے والے ہوں یا پنجاب کے دوسرے علاقوں کے لوگ جو اس جو اس حکم کو سن کر غمزدہ ہیں ان کو میں دوبارہ یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی خوشیاں ان کی پہنچ سے بالا ہیں ۔ آپ خوش رہیں اور خدا تعالیٰ مزید آپ کی خوشیاں بڑھاتا چلا جائے گا ۔ یہ کیوں نہیں سوچتے آپ کہ کس قدران کے دل مغضوب ہو چکے ہیں ۔ کس قدر ان کی تکلیف کے نئے نئے سامان خدا تعالیٰ نے پیدا کر دیئے ہیں۔ یعنی وہ شخص جو کسی کی خوشی پر عذاب میں مبتلا ہو اس سے زیادہ اور کیا جہنم سوچی جاسکتی ہے۔ بڑے ہی سادہ لوح ہیں وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ انہوں نے حکم دے کر ہماری خوشیاں چھین لی ہیں۔ ان کا حکم دینا بتاتا ہے کہ ان کے دلوں میں آگ لگی ہوئی ہے اس جہنم میں جل رہے ہیں کہ احمدیوں کو کیوں خدا تعالیٰ نئی نئی رفعتیں نئی نئی برکتیں عطا کرتا چلا جا رہا ہے۔ وہ حکم میں آپ کے سامنے پڑھ کر سناتا ہوں اس کو آپ پڑھ کر دیکھیں یہ کوئی رونے والا حکم ۔ اس پہ تو ہنسی آتی ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ کس قدر بیوقوف اور جاہل قوم ہے یہ کہ جو اس طرح دوسرے کی خوشیاں چھینے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ رزیل کوشش بتا رہی ہے کہ دلوں میں ایک آگ لگی ہوئی ہے، جہنم بر پا ہے۔ بہت انہوں نے کوشش کی ، بہت زور مارے کہ احمدیت کو نا کام اور نامراد کر دیں۔ آج سو سال کے بعد اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں کہ کوئی پیش نہیں گئی ، کوئی سختی کام نہ آئی، کسی قسم کے رزیل ارادوں نے احمدیت کو نا کام تو کیا کرنا تھا احمدیت کے پاؤں کی خاک کو بھی وہ ناکام و نامراد نہیں کر سکے۔ یہ وہ کیفیت ہے جو اس حکم سے ظاہر ہے۔ ایک شکست کا اعتراف ہے کہ ہم سب کچھ کر بیٹھے ہیں ہم نامراد ہو گئے ہیں اب خدا کے لئے خوش نہ ہو۔ کیونکہ تمہاری خوشیاں ہمیں تکلیف دیں گی۔ حکم نامے کے