خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 13

خطبات طاہر جلد ۸ 13 خطبه جمعه ۶ جنوری ۱۹۸۹ء نظام کا قصور ہے اُنہوں نے بروقت اطلاع کیوں نہیں دی۔ بہر حال جو اطلاعیں ملی ہیں اُن کے لحاظ سے سر فہرست خدا تعالیٰ کے فضل سے برطانیہ کی جماعت ہے جس نے سال گزشتہ میں گیارہ ہزار پاؤنڈ وقف جدید میں ادا کئے ۔ دوسرے درجے پر جرمنی کی جماعت ہے جس نے نو ہزار آٹھ سو ایک پاؤنڈ ادا کئے۔ اور تیسرے درجے پر امریکہ کی جماعت ہے جس نے چھ ہزار پانچ سو بائیس پاؤنڈ ادا گئے ۔ پھر ماریشس کا نمبر آتا ہے جس نے دو ہزار ایک سو اٹھانوے پاؤنڈ ادا کئے اور پھر کینیڈا جس نے دو ہزار تئیس پاؤنڈ ادا کئے۔ کینیڈا کی کچھ سمجھ نہیں آئی کہ یہ کیسے ہوا ہے کیونکہ عام طور پر وہ مالی قربانی میں امریکہ سے پیچھے نہیں ہیں اور ہر دوسری تحریک میں خدا کے فضل سے نہ صرف یہ کہ امریکہ کے پیچھے قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ آگے بڑھنے کا رجحان پایا جا رہا ہے اس لئے ہو سکتا ہے کہ اُن کی انتظامیہ کا قصور ہو یا وقف جدید کے سیکرٹری کا قصور ہو کہ وہ غافل رہا ہو سارا سال لیکن جیسا کہ تاثر کینیڈا کا یہاں پیدا ہو رہا ہے ویسا نہیں ہے۔ میں اُمید رکھتا ہوں کہ اس طرف وہ مزید توجہ کریں گے۔ انڈونیشیا ایک ہزار پانچ سو بائیس، ناروے ایک ہزار تین سو چھیانوے۔ چھوٹی جماعتیں جو بعد میں آگے بڑھ رہی سے اللہ تعالیٰ ہیں تیزی سے بعد میں آ کر اُن میں ناروے بھی خدا کے فضل سے شامل ہے ہر جہت سےا کے فضل سے ترقی کر رہا ہے لیکن اس پہلو سے سوئٹزر لینڈ ناروے کو بہت پیچھے چھوڑ گیا ہے کیونکہ سوئٹزر لینڈ کی جماعت ناروے کی جماعت کے مقابل پر تعداد کے لحاظ سے بہت تھوڑی ہے لیکن وقف جدید کے چندے میں اُنہوں نے ایک ہزار دو سو پاؤنڈ رپورٹ آنے تک ادا کئے تھے۔ ڈنمارک نے ایک ہزار ستاون پاؤنڈ اس مد میں ادا کئے ہیں۔ بہر حال یہ مختصر رپورٹ نا مکمل ہے لیکن ایک تھوڑی سی تصویر آپ کے سامنے رکھ رہی ۔ ہے کہ وقف جدید کے چندوں کی طرف بیرونی دنیا میں کسی طرح توجہ ہو رہی ہے۔ پہلے بھی میں نے یہ بات سمجھائی تھی کہ بیرونی دنیا میں جو چندوں میں وقف جدید کی تحریک ہے اس کی دو وجوہات ہیں اول یہ کہ ہر نیکی میں حصہ لینے اور شامل ہونے کا موقع پانے کی انسان کے دل میں تمنا ہوتی ہے اور یہ وہ تحریک تھی جو بے وجہ تو نہیں کہہ سکتے لیکن بعض خاص مصلحتوں کی وجہ سے آغاز میں صرف پاکستان اور ہندوستان میں محدود کی گئی تھی ۔ اس عرصے میں میں نے ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی خدمت میں تحریر کر کے یہ اجازت لی تھی چنانچہ تحریک ( جدید ) میں پھر اُس پر عمل بھی کیا کہ باہر کی دنیا