خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 158
خطبات طاہر جلد ۸ 158 خطبه جمعه ۱۰/ مارچ ۱۹۸۹ء اختیار میں نہیں ہے کہ تم ایسی سجاوٹیں کر سکو اور اگر کرو گے تو پھر تم سب برابر کے اس میں شریک ہو جاؤ گے اس لئے تم مہمان ہو اور میں تمہارا میز بان ہوں۔ میرا گھر ہے جس میں تم آ رہے ہو اس لئے میں ہر ایک سے حسب مراتب کے مطابق سلوک کروں گا ۔ تمہاری زیتوں کو دیکھا جائے گا کہ تمہاری کتنی قدر ہونی چاہئے اس چاہئے اس مسجد میں ۔ تم اپنی قیمت خود بڑھانے والے ہو گے اور جتنی اپنی قیمت اونچی کرتے چلے جاؤ گے اتنا ہی اس میزبان کو زیادہ قدردان پاؤ گے۔ اُس وقت مجھے سمجھ آئی کہ کیوں ایک ہی مسجد میں جو بظاہر گھاس پھوس کی مسجد تھی یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی علی کی مسجد ۔ اس میں کوئی سجاوٹ نہیں تھی۔ بارش ہوتی تھی تو چھت ٹپکتی تھی اور بسا اوقات سجدوں میں زمین کو چھونے والی پیشانیاں کیچڑ سے بھر جایا کرتی تھیں ۔ ( صحیح ابن حبان کتاب الصوم حدیث نمبر : ۳۶۸۵) اس مسجد میں بھی زینت کا ایک روحانی انتظام موجود تھا اور ہر شخص کی زینت کے مطابق اس سے سلوک ہو رہا تھا۔ اس مسجد میں بارات کے دولہا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ علیل تھے اور پھر آپ کے درجہ بدرجہ آپ کے مطابق میں صدیق بھی تھے ، شہید بھی تھے، صالح بھی تھے۔ گویا وہ ایک عظیم الشان بارات تھی جس کا ہر پانچ مرتبہ روزانہ مسجد میں فرشتے استقبال کیا کرتے تھے اُن کے لئے زینتیں سجائی جایا کرتی تھیں ۔ وہ خدا کا کام تھا اور وہ نظر آنے والی زینتیں نہیں تھیں ۔ پس یہ گیٹ یعنی صدی کا گیٹ اس میں جب ہم داخل ہو رہے ہیں تو اگر چہ ہم اپنے سامنے کسی سجے ہوئے گیٹ کو نہیں دیکھ رہے، ہم میں سے ہر ایک خود اپنے آپ کو سجانے میں مصروف ہے لیکن اُس تصوراتی گیٹ میں جس رنگ میں داخل ہوگا اُس کو اپنے ماحول میں گردو پیش کوئی ایسی خوبصورت سجاوٹ کی عمارت یا گیٹ دکھائی نہیں دیں گے جس سے اُس کو محسوس ہو کہ گویا میری خاطر یہ سب کچھ کیا گیا ہے لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ خدا جو پانچ وقت آپ کی سجاوٹ کے مطابق آپ کے ساتھ زینت کا سلوک فرماتا ہے، حسن واحسان کا جلوہ دکھاتا ہے اور ہر نمازی کو اس کے تقویٰ کے مطابق ہر مسجد میں جب وہ داخل ہوتا ہے عزت دی جاتی ہے۔ اسی کا نام مراتب کا درجہ بدرجہ بڑھنا ہے۔ اسی طرح اب جب اس گیٹ میں ہم داخل ہونے والے ہیں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جماعت میں سے ہر فرد بشر پر خدا کی نظر ہوگی ۔ اس کے ساتھ یقیناً عزت کا سلوک کیا جائے گا ۔ یقیناً اس کے ساتھ احترام کا سلوک کیا جائے گا۔ خدا کے فرشتے اس کے احترام کے لئے حاضر ہوں گے اور وہ خدا کی نمائندگی کریں گے لیکن کس کو کتنا احترام ملنا ہے، کس کی