خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 107

خطبات طاہر جلد ۸ 107 خطبه جمعه ۱۷ فروری ۱۹۸۹ء صلى الله نوجوان تو کئی پہلوؤں سے سلجھے ہوئے ، منجھے ہوئے او سے سلجھے ہوئے ، منجھے ہوئے اور باہر کی دنیا کے جوانوں سے سینکڑوں گنا بہتر ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آپ جب نصیحت کریں تو یہ بدکتے ہیں اور متنفر ہوتے ہیں اور آنحضرت ﷺ جب نصیحت فرماتے تھے تو وہ آپ کے عاشق ہو جایا کرتے۔ ، تھے۔ دوسرے میں نے ان سے کہا کہ ایک آدھ شکایت تو ہر مبلغ کے متعلق ہر ایسے شخص کے متعلق آ ہی جاتی ہے جو کسی کام پر مامور ہو۔ ہر شخص کو وہ راضی نہیں کر سکتا۔ کچھ لوگ ضرور ناراض ہو جایا کرتے ہیں لیکن ایک شخص کے متعلق شکایتوں کا تانتا لگ جائے تو اس پر غالب کا یہ شعر اطلاق پاتا ہے۔ ه گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی ( دیوان غالب صفحه : ۳۴۸) پس اپنے بچوں کو خوش اخلاق ان معنوں میں بنائیں کہ میٹھے بول بول سکتے ہوں ، لوگوں کو پیار سے جیت سکتے ہوں۔ غیروں اور دشمنوں کے دلوں میں راہ پا سکتے ہوں ، اعلیٰ سوسائٹی میں سرایت کر سکتے ہوں کیونکہ اس کے بغیر نہ تربیت ہو سکتی ہے نہ تبلیغ ممکن ہے۔ بعض مبلغوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت عطا فرمائی ہے اس لئے اپنے ملک کے بڑے سے بڑے لوگوں سے جب وہ ملتے ہیں تو تھوڑی سی ملاقات میں ہی وہ ان کے گرویدہ ہو جاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کی عظیم الشان را ہیں کھل جاتی ہیں۔ جہاں تک بچیوں کا تعلق ہے اس سلسلے میں بھی بار ہا ماں باپ سوال کرتے ہیں کہ ہم انہیں کیا بنائیں۔ وہ تمام باتیں جو مردوں کے متعلق یا لڑکوں کے متعلق میں نے بیان کی ہیں وہ ان پر بھی اطلاق پاتی ہیں لیکن اس کے علاوہ انہیں گھر گھر ہستی کی اعلیٰ تعلیم دینی بہت ضروری ہے اور گھریلو اقتصادیات سکھانا ضروری ہے کیونکہ بعید نہیں کہ وہ واقفین بچیاں واقفین کے ساتھ ہی بیاہی جائیں۔ جب میں کہتا ہوں کہ بعید نہیں تو مراد یہ ہے کہ آپ کی دلی خواہش یہی ہونی چاہئے کہ واقفین بچیاں واقفین سے بیاہی جائیں ورنہ غیر واقفین کے ساتھ ان کی زندگی مشکل گزرے گی اور مزاج میں بعض دفعہ ایسی دوری ہوسکتی ہے ایک واقف زندگی بچی کا اپنے غیر واقف خاوند کے ساتھ مذہب میں اس کی