خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 102 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 102

خطبات طاہر جلد ۸ 102 خطبہ جمعہ ۱۷ فروری ۱۹۸۹ء ہے۔ وہ واقفین جو مختلف عوارض کے شکار رہتے ہیں اگر چہ بعض ان میں سے خدا تعالیٰ سے توفیق پا کر غیر معمولی خدمت بھی سرانجام دے سکتے ہیں لیکن بالعموم صحت مند واقفین بیمار واقفین کے مقابل پر زیادہ خدمت کے اہل ثابت ہوتے ہیں اس لئے بچپن ہی سے ان کی صحت کی بہت احتیاط کے ساتھ نگہداشت ضروری ہے۔ پھر ان کو مختلف کھیلوں میں آگے بڑھانے کی با قاعدہ کوشش کرنی چاہئے۔ ہر شخص کا مزاج کھیلوں کے معاملے میں مختلف ہے۔ پس جس کھیل سے بھی کسی واقف بچے کو رغبت ہو اس کھیل میں حتی المقدور کوشش کے ساتھ ماہرین کے ذریعے اس کو تربیت دلالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بعض دفعہ ایک ایسا مربی جو کسی کھیل میں مہارت رکھتا ہو محض اس کھیل کی وساطت سے لوگوں پر کافی اثر و رسوخ قائم کر لیتا ہے اور نوجوان نسلیں اس کے ساتھ خاص طور پر وابستہ ہو جاتی ہیں۔ پس ہم تربیت کا کوئی بھی رستہ اختیار کریں کیونکہ ہماری نیتیں خالص ہیں اس لئے وہ رستہ خدا ہی کی طرف جائے گا۔ نیاوی تعلیم کے سلسلے میں میں نے بیان کیا تھا کہ انکی تعلیم کا دائرہ وسیع کرنا چاہئے ، ان کے علم کا دائرہ وسیع کرنا چاہئے ۔ اس سلسلے میں قوموں کی تاریخ اور مختلف ممالک کے جغرافیہ کو خصوصیت کے ساتھ ان کی تعلیم میں شامل کرنا چاہئے لیکن تعلیم میں بچے کے طبعی بچپن کے رجحانات کو ضرور پیش نظر رکھنا ہو گا اور محض تعلیم میں ایسی سنجیدگی اختیار نہیں کرنی چاہئے جس سے وہ بچہ یا تو بالکل نظر ہوگا اور اختیارنہیں سے وہ یا تعلیم سے بے رغبتی اختیار کر جائے یا دوسرے بچوں سے اپنے آپ کو بالکل الگ شمار کرنے لگے اور اس کا طبعی رابطہ دوسرے بچوں سے منقطع ہو جائے ۔ مثلاً بچے کہانیاں بھی پسند کرتے ہیں اور ایک عمر میں جا کر ان کو ناولز کے مطالعہ سے بھی دور نہیں رکھنا چاہئے لیکن بعض قسم کی لغو کہانیاں جو انسانی تربیت پر گندے اور گہرے بد اثرات چھوڑ جاتی ہیں ان سے ان کو بچانا چاہئے خواہ نمونے کے طور پر ایک آدھ کہانی انہیں پڑھا بھی دی جائے۔ بعض بچے Detective Stories یعنی جاسوی کہانیوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں لیکن انہیں اس قسم کی لغو جاسوسی کہانیاں پڑھائی جائیں جیسی آج کل پاکستان میں رائج ہیں اور بعض مصنف بچوں میں غیر معمولی شہرت اختیار کر چکے ہیں جاسوسی کہانیوں کے مصنف کے طور پر تو بجائے اس کے کہ ان کا ذہن تیز ہو، ان کی استدلال کی طاقتیں صیقل ہو جائیں اور زیادہ پہلے سے بڑھ کر ان میں استدلال کی قوت چھکے وہ ایسے جاہلانہ جاسوسی