خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 916
۳۷۴ ۳۸۶ لدلد ۱۸۳ والد ۷۴۹ ۲۸۹ ۵۲ ۵۶ ۱۰۲ ۲۸۴ 26 کہاں میں کہاں یہ مقام اللہ اللہ انڈیکس خطبات طاہر جلدے شرک بعض لوگ منزل پر پہنچانے والے کو منزل بنا لیتے ہیں بے صبری شرک کی طرف لے جاتی ہے ۲۸ ۸۸۹ مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں ۔۔۔ ( غالب ) میں تر اور چھوڑ کر جاؤں کہاں ( مصلح موعود ) قناعت کا فقدان انسان کو شرک کی طرف لے جاتا ہے ۸۷۱ نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے ہم ہوئے خیر امم تجھ سے ہی اے خیر رسل شریعت ہے پرے سر حد ادراک سے اپنا سجود ( غالب ) گناہ گناہ ہی ہوتا ہے اے شفاعت شعر و شاعری آنحضرت کی شفاعت کا استحقاق کب ہوگا خاص صورت میں شعر و شاعری کا شوق اچھا ہے آج ادھر کو ہی رہے گا دیدہ اختر کھلا (غالب) ۷۳۵ ۵۸۶ شکر آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے (در مشین) ۸۸۸ خدا ہر شکر کے جذبے کو قبول کرتا ہے اب کے بھی دن بہار کے یوں ہی گزر گئے ( میر اسمعیل) ۲۵۹ من لم يشكر الناس لم يشكر الله اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے ( در مشین ) انبیاء اللہ کے شکرگزارلوگ ہوتے ہیں ۱۱۳ ۵۶۴ استغفار اور شکر کا گہرا تعلق ص ض ایں چشمہ رواں کہ مخلق خدا دهم ( در مشین ) برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر بن مہر دیکھے کس طرح کسی مہ رخ پر آئے دل ( در مشین ) پر مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب ( در مشین ) ج- ج- جعفری غریب ہے ۔۔ (ضمیر جعفری ) جس کی دعا سے آخر لیکھو مرا تھا کٹ کر ( در ثمین ) حیلے سب جاتے رہے ایک حضرت تو اب ہے دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے ۔۔ رات پی زمزم پہ مے اور صبح دم ( غالب ) ۲۵۷ ۶۶۳ ۷۷۴ ۶۷۳ صادقہ بیگم صاحبہ اہلیہ شیخ غلام رسول صاحب صالح حسین صاحب ( صادق پور ) ۱۹ ۲۶۴ صبر ۴۱۰ ۵۵۹ ٣٠٧ صبر کی مختلف صورتیں ۸۸۳ تا ۸۸۹ صبر کا استغفار سے گہرا تعلق ہے ۳۰۸ صبر کا ایک معنی برائیوں سے بچنا ہے ۲۸۵ رات کے وقت ہے۔ قت سے پیئے ساتھ رقیب کو لئے (غالب) شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے ۵۹۸ ۷۳۴ غصہ کے وقت اس پر قابو رکھو ۸۷۷ عہد جوانی رورو کا ٹا پیری میلی آنکھیں ۳۰۱ صابر کی زندگی مجاہد کی زندگی ہے ۸۴۹ قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے ۶۸ صبر کا کمال قناعت تک پہنچاتا ہے ۸۷۳ کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ( در نشین ) ۲۹۳ کون ہوتا ہے حریف مئے مردانگن عشق ( غالب ) اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۹۳ ۱۴۶