خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 864
خطبات طاہر جلدے 864 خطبه جمعه ۲۳ دسمبر ۱۹۸۸ء کے فضل کے ساتھ ان کے رزق ، ان کی غنی میں ہمیشہ وسعت ہوئی ت ہوتی چلی ۔ چلی جاتی ہے۔ اس کے برعکس جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس مضمون کا اگر توحید سے تعلق ہے تو اس کے برعکس پھر شرک نظر آنا چاہئے۔ چنانچہ قرآن کریم نے بالکل یہی مضمون بیان فرمایا ہے کہ وہ لوگ جو اپنی خواہشوں کو محدود نہیں کر سکتے اور اپنی خواہشوں کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر ان کے پیچھے چلنا شروع کر دیتے ہیں ان کا انجام لازماً شرک پر ہوتا ہے۔ صلى الله چنانچہ قرآن کریم فرمایا ہے: أَرَعَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوسَهُ أَفَأَنْتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا ( الفرقان (۴۴) کہ اے محمد ﷺ! أَرَعَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَواهُ علی کیا تم نے دیکھا نہیں ایسے شخص کو جو اپنے نفس کی خواہش کو اپنا معبود بنا لیتا ہے۔ أَفَأَنْتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا تو نگرانی کی اعلیٰ صفات سے مرصع ہے تجھے ہم نے بہترین وکیل بنایا ہے لیکن ایسے شخص کا تو بھی وکیل نہیں بن سکتا کیونکہ ایسا شخص اگر تیرے سپرد کر دیا جائے جس کے او پر کوئی بھی ضابطے کی پابندی نہیں جس نے اپنے ھوٹی کی پیروی بہر حال کرنی ہے۔ اس کی تو کیسے ضمانت دے سکتا ہے۔ پس دنیا میں بھی آپ کبھی کسی ایسے شخص کی ضمانت نہ دیں جو قانع نہیں ہے کیونکہ جو قانع نہیں ہے اس کے اوپر کوئی حد قائم نہیں کی جاسکتی وہ اپنی ھوئی کی پیروی کرے گا اور آپ کی ساری توقعات کو توڑ دے گا کسی موقع پر آئے کیونکہ ھوئی کو اس نے اپنا معبود بنالیا ہے۔ آغاز میں تو ایسا نہیں ہوا کرتا لیکن بالآخر ایسا ہو جایا کرتا ہے کیونکہ یہ رستہ شرک کا ہے اس لئے میں یہ نہیں کہتا کہ ہر وہ شخص جو قانع نہیں ہے وہ لازما مشرک ہے، میں یہی کہتا ہوں کہ اس نے شرک کا خطرہ مول لے لیا ہے اور اگر وہ اپنی ھوئی کی پیروی میں بالآخر جائز رستوں کو چھوڑ کرنا جائز رستوں پر قدم مارنے لگے گا تو اس کا ہر قدم اس کو شرک کی طرف لے کر آگے بڑھے گا اور بالآخر اس کا انجام اتنا خطر ناک بیان کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں جو انتہائی جہالت اور انتہائی ظلم کی حالت ہے وہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ پھر آخر اس حالت کو پہنچ جائیں گے۔ چنانچہ فرماتا ہے: أَفَرَعَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَو یه ایک اور آیت میں کہ کیا تم نے دیکھا ہے، کیا تو سمجھتا ہے ان لوگوں کو مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوا یہ ایسا شخص جس نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنالیا ہے أَضَلَّهُ اللهُ عَلى عِلْمٍ خدا تعالیٰ نے اس کو گمراہ کرنے کا فیصلہ کر لیا علی علم یوں نہیں کہ جو چاہا، ویسے تو خدا تعالیٰ ہر فیصلے پر قادر ہے لیکن یہ علم رکھتے ہوئے کہ اس کا انجام لازماً برا ہونا ہے