خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 861 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 861

خطبات طاہر جلدے 861 خطبه جمعه ۲۳ دسمبر ۱۹۸۸ء کی کوشش نہ کرے بلکہ راضی رہنے کا مضمون یہ ہے کہ خدا نے دیئے ہوئے کو وسیع کرنے کے لئے جو خود راستے تجویز کر دیئے ہیں انہی رضا کے رستوں پر چل کر اپنے رزق کو بڑھانے کی کوشش کرے کیونکہ وہ رضا سے اللہ کی رضا کے خلاف کسی جگہ قدم نہیں مارے گا بلکہ خدا نے رزق بڑھانے کے لئے خود متعدد رستے تجویز فرما دئے ہیں اور رزق کی وسعت کے لئے ایک عظیم الشان نظام مقرر فرما دیا ہے۔ تو خدا کی رضا سے خدا کی رضا کی راہوں پر قدم مارنے کو قناعت کے خلاف نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ قناعت کا حقیقی مضمون اس میں داخل ہے۔ جو چیز رضا سے حاصل ہو گی وہ ہم ضرور حاصل کریں گے اور تھوڑی رضا کو زیادہ رضا میں تبدیل کریں گے ۔ اس لئے مومن کی جدو جہد کا رستہ کبھی بھی رک نہیں سکتا ، لا متناہی رستہ ہے، ایک نہیں بلکہ متعد درستے ہیں۔ ہر طرف خدا کی رضا کو بڑھانے کی خاطر ، خدا کی رضا کی راہیں اس کے لئے بازو کھولے کھڑی ہیں ۔ ہاں جس وقت اس نے رضا کی راہوں سے باہر قدم رکھ کر اپنے رزق کو بڑھانے کی کوشش کی وہیں وہ قناعت کی چار دیواری سے باہر نکل جاتا ہے اور اس کی پھر کوئی حفاظت نہیں ہوتی ۔ تو توحید کا قناعت کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے یعنی اسلام جو قناعت کا تصور پیش کرتا ہے اس کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور قناعت مسلمانوں کو اور مومنوں کو بے بس نہیں کر دیتی بلکہ ان کے لئے مزید وسعت کے سامان فرماتی ہے۔ صلى الله ایک دفعہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا کے دیکھو اغنی وہ نہیں ہوا کرتا جس کے پاس بیشمار دولت ہوں بلکہ غنی وہ ہے جس کا دل غنی ہو جس کو الغنی غنی النفس عطا ہوئی ہو۔ (ترمذی کتاب الزهد ، حدیث نمبر : ۲۲۹) اس میں دو مضمون دو مضمون خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔ ایک یہ کہ جیسا یہ کہ جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی بیان کیا تھا اگر اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے چل کر اس کو ہر قیمت پر پورا کرنے کے لئے آپ اپنی وسعتیں بڑھانے کی کوشش کریں تو ناممکن ہے کہ آپ اپنے نفس کو کسی مقام پر بھی مطمئن کر سکیں ۔ آنحضرت ﷺ نے ایک اور موقع پر فرمایا کہ انسان کا تو یہ حال ہے کہ اس کی خواہشات ہمیشہ اس سے آگے آگے بھاگتی ہیں اور اس کی زندگی اپنی خواہشات سے بہت ہی چھوٹی ہے۔ پھر ایک اور مضمون ہے جو قرآن کریم میں بھی بیان ہوا کہ جہنم هَلْ مِنْ مَّزِيدِ (ق:۳۱) کہتی ہے۔ جتنا بھی اس کا پیٹ بھر و وہ مزید کا مطالبہ کرتی چلی جاتی ہے اور ھوٹی کا جہنم سے گہرا تعلق ہے۔ اس سلسلہ میں میں مزید آگے جا کر روشنی ڈالوں گا۔ تو ھوٹی کی پیروی اس جہنم تک تو پہنچا سکتی ہے جس کا پیٹ کبھی بھر نہیں سکتا۔ تو وہ شخص