خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 852 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 852

خطبات طاہر جلد ۶ 852 خطبه جمعه ۱۶ دسمبر ۱۹۸۸ء جولا محدود ہے اور ساری کائنات میں ہے کوئی جگہ اس سے خالی نہیں اس کا اپنا ذاتی احساس حمد ایک اتنی کا عظیم چیز ہے کہ اس کے مقابل پر ساری کائنات بھی اگر اس حد کا انکار کر دے اور ناشکری شروع کر دے تو خدا کو واقعہ ضرورت نہیں ہے۔ خدا اور اس ۔ یں ہے۔ خدا اور اس کے عظیم بندوں یعنی انبیاء کے بعد درجہ بدرجہ غنی اور قناعت کا تعلق مختلف ہوتا چلا جاتا ہے یعنی غنی کی پوری شان انسانی قناعت میں نہیں رہتی لیکن پھر بھی جتنی بھی ہو قناعت حسین دکھائی دیتی ہے۔ چنانچہ جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے بعض لوگوں کو میں نے بڑے غور سے قریب سے دیکھا ہے ان کی زندگیاں بہت زیادہ مطمئن ہیں ان لوگوں کی نسبت جن کو ان سے سینکڑوں گنا بعض دفعہ ہزاروں گنا زیادہ ملا ہوا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ قانع ہیں اور وہ دوسرے زیادہ پانے والے بد نصیبی کے ساتھ قانع نہیں ہیں اور ان کی حرص ہمیشہ ان کے ماحصل کے حدود سے آگے آگے بھاگ رہی ہوتی ہے ۔ اس لئے قناعت بڑی ضروری ہے۔ اگر خاوند قانع ہو بیوی قانع نہ ہو تو ان برائیوں کے علاوہ ایک اور بھی جہنم پیدا ہو جاتی ہے گھروں میں ۔ اگر بیوی قانع ہو اور خاوند قانع نہ ہو تب بھی یہی مصیبت ہے۔ اگر ماں باپ قانع ہیں اور بچے قانع نہیں ہیں تو وہ اپنے ماں باپ کے طعنے ایک عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا بعض ماں باپ اللہ کی رضا پر راضی ، جو کچھ ان کو ملا ہے اس کے ، اندر رہنے والے لیکن ان کے بچے پھر ان کی ساری عزتیں خاک میں ملا دیتے ہیں ، آگے آگے بھاگ کر اپنی حرصوں کو پوری کرنے کے لئے ایسے بوجھ اٹھا لیتے ہیں کہ ان کے ماں باپ پھر ان کو اتا ر بھی نہیں سکتے۔ تو قناعت کا نہ ہونا ایک بہت ہی خطرناک چیز ہے اگر صبر بھی نہ ہو۔ تو صبر اور قناعت کو دونوں کو اپنی حفاظت کے لئے استعمال کرنا چاہئے اور آج کل کے زمانے میں مالی لین دین کی خرابیوں میں یہ دونوں صفات انسانوں کے بہت زیادہ کام آسکتی ہیں۔ اس لئے جب میں کہتا ہوں کے گناہوں کو ٹولیں تو میری مراد یہ نہیں ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایک دفعہ کہا تھا کہ گناہ بننے کے بعد ان کو ٹولیں ۔ میں آپ سے یہ کہتا ہوں کہ گناہوں کی پیدائش سے پہلے ان کونوں کھدروں میں جہاں چھپ کر جراثیم پرورش پا رہے ہوتے ہیں ، جہاں گناہوں کی پیدائش ہو رہی ہوتی ہے ان جگہوں سے پردے اٹھائیں اور ان پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کے کیا ہو رہا ہے آپ کے اندر کس طرح بالآخر آپ کو گناہوں کی طرف دھکیلا جائے گا اور وہ قوتیں جو ہانک کر آپ کو گناہوں کی طرف لے