خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 822
خطبات طاہر جلدے 822 خطبه جمعه ۲ دسمبر ۱۹۸۸ء رہے۔ اور قرآن کریم نے جو یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کو اندھیرے سے روشنی میں نکالتا ہے۔ یہ وہ جو منظر ہے جو احمدیوں پر اطلاق پا رہا تھا واقعہ اور کوئی بھی ایسا عرصہ نہیں گزرا اس تمام گیارہ سالہ دور میں جبکہ احمدی اندھیروں سے نکل کر روشنی میں داخل نہ ہو رہے ہوں۔ اس پہلو سے جب ہم صبح کی بات کرتے ہیں تو مراد یہ نہیں ہے کہ نعوذ باللہ ہم روحانی رات کے اندھیروں میں مبتلا تھے۔ ہماری مراد صرف یہ ہوتی ہے کہ ہم دنیا دار ہوتے چلے جا رہے تھے اور جہاں تک اللہ کے تعلق کا سوال ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے کوئی اندھیرا بھی ہمارے دلوں کو خدا تعالیٰ سے منقطع نہیں کر سکا اور ہمیں اپنی راہوں سے بھٹکا نہیں سکا بلکہ ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نتیجے میں اس مطر کے فضلوں کا وارث بنتے رہے اور آئندہ بھی ہمیشہ پہلے سے بڑھ کر بنتے چلے جائیں گے۔ پس اس سارے تجزیئے کے بعد، اس سارے تجزئیے کی روشنی میں میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر چہ احمدیت ایک ملک کی چیز نہیں ہے، ایک ملک کی جاگیر نہیں ہے اور کوئی ایک ملک محض ایک ملک کے حساب سے ہمارا صلح نظر نہیں ہے۔ احمدیت انسانیت کی جاگیر ہے، کل انسانیت کی ملکیت ہے اور سارا عالم ہمارے سمح نظر ہے ۔ اس لحاظ سے اول یہ کہ اپنے ارادوں کو بلند تر ۔ رکھیں اور اپنے دائرہ اثر کو بڑھانا شروع کریں اور بھی زیادہ بڑھاتے چلے جائیں۔ تمام عالم کو ہمیں حضرت محمد مصطفی اللہ کے نور سے روشن کرنا ہے یہ ہمارا مقصد ہے اور اسی لئے ہم زندہ ہیں۔ دوسری بات یہ کہ یہ دعائیں کریں کہ اے خدا! پاکستان میں جو انقلابی تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں ان تبدیلیوں کے نتیجے میں احمدی تن آسان ہو کر ان خوبیوں کو چھوڑ نہ بیٹھیں جو مشکل وقتوں نے انہیں عطا کی تھیں بلکہ پہلے سے بڑھ کر ان پر قائم ہو جائیں اور ایسی روشنی کا سورج ان پر طلوع ہو جس میں تیری محبت کا نور پہلے سے بڑھ جائے ان کے دلوں میں اور اس کی اونچی ہو جائے اور وہ جو پہلے زخموں اور تکلیفوں کے نتیجے میں تیری طرف مائل ہوئے تھے اب وہ جذبہ شکر سے اور بھی زیادہ تجھ سے محبت کرنے لگیں ۔ اے خدا! ایسی روشنی کا سورج ان پر طلوع کر کہ جس سے تن آسانی پیدا نہ ہو اور اس الائچیں اور دنیا کی لذتیں ان کو تجھ سے ہٹا کر اپنی طرف مائل نہ کر لیں بلکہ ایسی صبح ان پر طلوع ہو کہ پہلے سے زیادہ یہ تیرے بن جائیں اور پھر یہ آسانی ان کو راہ حق سے ہٹانے کی بجائے راہ حق پر ان کے قدم تیز کرنے کا موجب بنے ۔ یعنی مشکلات جو بعض دفعہ اچھے کام کرنے