خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 797
خطبات طاہر جلدے 797 خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۸۸ء اصل حقیقت یہ ہے اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کیا یہ لوگ ضرور مارے جائیں گے اس کے متعلق میں یہ بات بتانا چاہتا ہوں کہ جو مباہلے کا اعلان میں نے کیا تھا اس کو اگر آپ پڑھیں تو اس میں صرف موت کو نشان کے طور پر طلب نہیں کیا گیا بلکہ واضح طور پر یہ التجا موجود ہے کہ خدا تعالیٰ پھر ایسے آسمانی نشان دکھائے کہ جو جھوٹا فریق ہے اس کا ذلیل ہونا ، اس کا جھوٹا ہونا ،اس کا رسوا ہونا سب دنیا پر کھل جائے اور اس کے لئے خدا کی تقدیر کئی رنگ میں کام کرتی ہے۔ پس ضروری نہیں ہے کہ مباہلے میں فریق ثانی یعنی دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ ایک سال کے اندر اندر ہلاک ہو مگر یہ ضروری ہے کہ اگر مباہلہ سنجیدگی کے ساتھ شرائط کو پورا کرتے ہوئے قبول کیا جائے تو جو جھوٹا فریق ہے اسے لازماً ذلیل ہونا ہوگا ، رسوا ہونا گا ، ناکام ہونا ہوگا اور دنیا دیکھے گی کہ واقعہ خدا کی تقدیر شر اس کے متعلق پوری ہوئی ہے اور جہاں تک سچے فریق کا تعلق ہے اس کے حالات بھی مشتبہ بھی نہیں رہ سکتے ۔ اس کے حق میں لازماً خدا تعالیٰ کی تقدیر خیر اس طرح کھل کر روشن ہو گی کہ دیکھنے والے دیکھیں ۔ ۔ پس دیکھنے والے دیکھتے تو ہیں اور دیکھیں گے لیکن روحانی دنیا میں دیکھنے کی آنکھیں مختلف ہوا کرتی ہیں۔ بعض سطحی طور پر دیکھتے ہیں اور اس کے باوجود ان کے دل میں بات ڈوبتی نہیں ہے۔ ان کے ادراک کی قوت کمزور ہو چکی ہوتی ہے۔ بعض لوگ آنکھوں کے اندھے ہوتے ہیں ، بعض دماغ کے اندھے ہوتے ہیں اور دنیاوی لحاظ سے بھی آپ یہ فرق دیکھیں گے۔ بعض لوگوں کی آنکھوں میں کوئی قصور نہیں ہوا کرتا اور ایک آنکھوں کا ماہر جب ان کا معائنہ کرتا ہے تو آنکھوں کو اور اس سے پیچھے جو اعصاب کے دھاگے آنکھ کے پیغام کو دماغ تک پہنچانے والے ہیں ان کو بھی درست پائے گا لیکن اگر دماغ پاگل ہو گیا ہو تو اسے کچھ کا کچھ دکھائی دینے لگتا ہے۔ یعنی سامنے اور آدمی موجود ہے آنکھ صیح پیغام بھیج رہی ہے مگر پاگل دماغ ان پیغامات کا ترجمہ اور کر رہا ہے۔ اس لئے روحانی دنیا میں جن اندھوں کا ذکر ملتا ہے وہ آنکھ کے اندھے نہیں ہوتے دراصل دماغ کے اندھے ہوتے ہیں ۔ وہی باتیں مومن بھی دیکھ رہے ہوتے ہیں اور ان کا ایمان بڑھ رہا ہوتا ہے ، ان کو روز روشن کی طرح دکھائی دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر بچوں کی تائید میں ظاہر ہو رہی ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بڑی کثرت سے جماعت کی طرف سے ایسے خطوط ملتے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ جن کے ایمان پہلے مضبوط تھے وہ مضبوط تر ہو گئے، جن کے کمزور تھے وہ مضبوط ہو