خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 794
خطبات طاہر جلدے 794 خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۸۸ء کو مباہلہ اور میلے اور دنگل کا فرق معلوم نہ ہو۔ پھر یہ حرکتیں کیا ظاہر کرتی ہیں ۔ میرے نزدیک یہ حرکتیں ان کی جہالت سے زیادہ ان کی نفس کی بغاوت اور دھو کے پر دال ہیں ۔ یہ ظاہر کرتی ہیں کہ حرکتیں ان کی جہالت سے زیادہ ان کی نفس لوگ دنیا کو دھو کے دینے والے اور خدا کی تقدیر سے بغاوت کرنے والے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی یہ تقدیر مباہلہ جو ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس دنیا میں جس کی اکثریت ہے، جس کا زور ہے اسی کا مباہلہ چلے گا اور اسی کی طاقت کے مظاہرے دراصل یہ فیصلہ کریں گے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ پس یہ ہے ان کا حقیقی تصور ۔ اس سلسلے میں میں نے پہلے بھی جماعت کو نصیحت کی تھی اب پھر یہی کرتا ہوں کہ ان لوگوں سے معاملے میں دو قسم کی باتیں ظاہر ہو سکتی ہیں اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالیں اور اس کے مطابق خدا تعالیٰ سے دعائیں کریں ۔ ایک یہ کہ ایسے لوگ خدا کے نزدیک ایسے شریر ہوں اور ان کی شرارت کا اثر اتنا وسیع ہو چکا ہو علاقے میں کہ اس سے خطرہ ہو کہ سچ اور جھوٹ میں ابہام پیدا ہو جائے گا اور مباہلے کا جو اصل مقصد ہے وہ ضائع ہو جائے گی۔ ایسی صورت میں میں یہ ایمان رکھتا ہوں کہ خدا کی تقدیر لازماً ان کی ذلت اور رسوائی کے سامان کرے گی اور خواہ یہ مباہلے سے بھاگنے کی لاکھ کوششیں کریں خدا تعالیٰ ان کا انجام سچوں جیسا نہیں بنائے گا اور بچوں اور جھوٹوں کے انجام میں ایک نمایاں فرق کر کے دکھائے گا۔ پس اس پہلو سے جماعت کو دعائیں کرنی چاہئے کہ اے خدا ! گرچہ قانونی اور رسمی لحاظ سے انہوں نے مباہلہ کو قبول نہیں کیا لیکن تو اپنی اس غیرت کے نتیجے میں جو بچوں سے رکھتا ہے اور اس کراہت کے نتیجے میں جو جھوٹوں اور دھو کے بازوں سے رکھتا ہے ایسے نشان ظاہر فرما کہ جس کے نتیجے میں اس علاقے کے لوگ گمراہ ہونے کی بجائے ہدایت پا جائیں اور زور آخری حصے پر ہونا چاہئے یعنی ہدایت پر ۔ جس خطبہ میں میں نے جنرل ضیاء الحق صاحب کو آخری تنبیہ کی تھی اور بتایا تھا کہ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ تم خدا کی تقدیر کی پکڑ سے اب بیچ نہیں سکتے اس میں میں نے یہ بات بھی واضح کی تھی کہ جماعت یہ دعا ئیں نہ کرے کہ دشمن ذلیل و رسوا ہو اور حیرت انگیز نشان ظاہر ہوں بلکہ یہ دعا کرے کہ ایسے نشان ظاہر ہوں جن کے نتیجے میں معاندین کو ہدایت نصیب ہو سکے یا معاندین کو نہیں اگر انہوں نے پکڑے جانا ہے تو ان کو جو ان کے زیر اثر ہیں یعنی عوام الناس جو اکثر صورتوں میں لاعلم