خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 780 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 780

خطبات طاہر جلدے 780 خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۸۸ء آپ کے دل میں پیدا ہو جو خدا کی اس شان کے ساتھ ہم آہنگ ہو جو اس وقت خداد وقت خدا دکھا رہا ہے تو اتنی غیر معمولی ایک دعا کی لہر آپ کے دل سے اٹھتی ہے کہ اس کی موجیں خدا کی رحمت کے پاؤں پر چھلکنے لگتی ہیں اور اسے نمدار کر دیتی ہیں اور نا ممکن ہے کہ پھر وہ دعا نا مقبول ہو۔ تو اگر ساری جماعت اسی طرح دعاؤں میں لگی رہے ، جماعت کے ہر فرد کے مختلف جذبات ہیں، مختلف کیفیات ہیں مختلف ان کی پاکیزگی کے حالات ہیں ، مختلف خلوص کے حالات ہیں ۔ توحید کا عرفان بھی ہمیشہ ایک سا نہیں رہا کرتا ، بعض اوقات توحید کا عرفان ایک خاص شان کے ساتھ انسان کے سامنے ابھرتا ہے، ایسے لمحات جب خدا کی کسی شان سے ہم آہنگ ہوتے ہیں تو اس دعا میں سے ایک عظیم قوت اٹھتی ہے اور دعا کرنے والے کو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ دعا نا مقبول نہیں ہو سکتی ۔ اس لئے بہت ہی ضروری ہے کہ ہر آدمی خواہ اپنے آپ کو چھوٹا سمجھے یا بڑا سمجھے یا عام دنیا کی نظر میں نیک ہو یا بد ہو دعاؤں میں مصروف رہے۔ احادیث سے پتا چلتا ہے کہ بعض دفعہ بدوں کے دل سے بھی ایک ایسی دعا اٹھتی ہے جو خدا کی کسی شان کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتی ہے اور ان کی ساری عمر کی بدیاں ان کو جہنم میں دھکیلنے میں ناکام رہتی ہیں اور اس ایک لمحے کی دعا مقبول ہو جاتی ہے اور اس کی ساری زندگی کی بدیوں کے عذاب سے ان کو بچا لیتی ہے۔ تو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا کلام بہت ہی عارفانہ کلام ہے، بہت ہی گہرا ہے اور اس کے مطالب کو سمجھنا چاہئے ۔ صلى الله اس لئے میں جماعت کو متوجہ کرتا ہوں کے دعاؤں میں مصروف رہیں اور دعاؤں کو ادلتے بدلتے رہیں ان کے رخ پلٹتے رہیں ۔ یہ بھی ایک قبولیت دعا کا مقام حاصل کرنے کے لئے ایک اچھا راز ہے۔ اس کو سمجھنے سے آپ کو قبولیت دعا کا ایک اور فلسفہ سمجھ آ جائے گا۔ ایک ہی نہج پر ایک ہی طرز پر جس طرح طوطا بولتا ہے یا کوئی بچہ جس نے سبق رٹا ہو وہ سبق پڑھتا ہے اس رنگ میں اگر کوئی دعا کرتا چلا جائے تو ہو سکتا ہے اس کی ساری عمر کی دعا بھی بے معنی ہو ۔ اسی لئے وہ لوگ جو وظیفوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں بسا اوقات وہ اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ وہ ان باتوں کی تلاش میں رہتے ہیں کون سا وظیفہ ملے جو کار گر ثابت ہو۔ حالانکہ اصل وظیفہ وہ ہے جو دل کا تعلق خدا سے پیدا کر دے اور کوئی وظیفہ یہ کام نہیں کر سکتا جب تک اسے سمجھ کر غور کر ۔ کے اپنے دل پر طاری کر کے اسے ادا نہ کیا جائے اور دعاؤں میں بھی آپ کو اس طرح دعاؤں کو الٹنا پلٹنا چاہئے کہ آپ کے مزاج میں سے وہ روح نکالیں، آپ کے دل میں ایک گرمی پیدا کریں۔ آپ کی فطرت میں وہ سوز عطا کر دیں جس کے نتیجے میں پھر