خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 759 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 759

خطبات طاہر جلدے 759 خطبه جمعه ۱۱ نومبر ۱۹۸۸ء ان معنوں میں بعض جگہ بدیوں کے ایسے اڈے بن جاتے ہیں جن کو ہم پیشہ وراڈے کہہ سکتے ہیں اور وہاں سے برائیاں پھیلانے کے کاروبار ہوتے ہیں۔ بظاہر ایک دکان ہے ایک جنرل سٹور ہے وہاں کا روبار تو ہونا چاہئے ان سودوں کا جن سودوں کو حاصل کرنے کے لئے لوگ وہاں حاضر ہوتے ہیں لیکن بسا اوقات وہاں بدیوں کے کاروبار بھی شروع ہو جاتے ہیں اور وہاں آپ ہمیشہ قابل اعتراض حرکت کرنے والوں کو قابل اعتراض حالت میں لمبے عرصے تک وہاں پائیں گے اور کئی قسم کی خرابیاں وہاں سے جنم لیتی ہیں۔ تو جہاں تک نظام کا تعلق ہے نظام جماعت کو وہاں ضرور دخل دینا چاہئے اور وہاں دخل دینے کی بہت سی صورتیں ہیں۔ سب سے پہلے جب انسان کسی بیماری میں دخل دیتا ہے تو اسے جراحی کا خیال نہیں آیا کرتا اسے عام طریق پر شفا دینے کا خیال آیا کرتا ہے۔ جراحی بعد کی بات ہے اس لئے جب میں دخل دینے کی بات کرتا ہوں تو اس تعلق میں بھی میرے ذہن میں ہرگز یہ نہیں کہ فوراً ان کو وہاں سے اکھاڑ پھینکو بلکہ وہ تمام مناسب اقدامات کرو جن کا ان اڈوں کی اصلاح سے تعلق ہے۔ احمدی دکاندار ربوہ سے باہر بھی ہو سکتے ہیں اور وہ بھی اس قسم کی خرابیوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ بعض یورپ میں احمدی دکانداروں کے متعلق مجھے معلوم ہوا کہ ان کے ہوٹل کے کاروبار ہیں اس لئے وہاں شراب بھی بکتی ہے۔ چنانچہ جب میں نے اس کا سختی سے نوٹس لیا ہختی سے مراد یہ ہے کہ Firmness جس کو انگریزی میں کہتے ہیں کہ بڑے پختہ قدم کے ساتھ میں نے اس بات پر اصرار کیا کہ آپ کو یہ کاروبار چھوڑنا ہوگا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک بڑی بھاری تعداد ایسی تھی جنہوں نے اس کا روبار کو ترک کر دیا۔ بعضوں کو خدا تعالیٰ نے فوراً بہتر کاروبار بھی عطا کئے ، بعضوں کا ابتلا میں بھی ڈالا۔ لمبے عرصے تک وہ دوسرے کا روبار سے محروم رہے لیکن وہ پختگی کے ساتھ اپنے اس فیصلے پر قائم رہے تو اس طرح ہر صورتحال کے مطابق مختلف کاروائی کرنی ہوتی ہے مگر نظام جماعت کو سب دنیا میں مستعد ہو کر جہاں تک احمدیوں کا تعلق ہے ان کو برائیوں کے اڈوں سے متعلق نہ رہنے دیں اور ربوہ جیسے شہر میں جہاں انتظامیہ کا دخل عام شہروں کے مقابل پر زیادہ ہے کیونکہ بھاری اکثریت احمدیوں کی ہے اور احمدیوں کی رائے عامہ کو ربوہ میں جس قوت کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے اس قوت سے غیر شہروں میں بسنے والے احمدیوں کی رائے عامہ کو استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ تو Firmness اور سختی سے میری مراد یہ ہے کہ پہلے ایک با قاعدہ منصوبہ بنا کر ایسے لوگوں کو