خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 738
خطبات طاہر جلدے 738 خطبه جمعه ۲۸ اکتوبر ۱۹۸۸ء اس پہلو سے اور بھی بہت سے پروگرام ہیں مگر وقت کی رعائت سے میں ان کی تفاصیل آپ کے سامنے نہیں رکھنا چاہتا لیکن انشاء اللہ تعالیٰ انتظامیہ کو ایسی ہدایتیں جاری کی جائیں گی ۔ آخری بات پھر میں یہی کہوں گا کہ دل گداختہ پیدا کئے بغیر وہ دل جو غیر کی تکلیف محسوس کرتا ہے اس کے بغیر آپ معاشرے کی اصلاح نہیں کر سکتے اور یہ دل گداختہ اپنوں اور غیروں میں فرق نہیں کیا کرتا ۔ آپ صرف اپنوں کے لئے دل میں ان باتوں کا دکھ محسوس نہ کریں بلکہ غیروں کے لئے بھی کریں۔ ان نوجوانوں کو جن کی آپ اصلاح کرتے ہیں ان کو ساتھ لے کر کبھی نکلیں اور دوسرے سوسائٹی کے دکھوں یا حصوں کو جا کر ان کو نظارہ کروائیں ، ان کی خدمت کا جذ بہ ان کے اندر پیدا کریں۔ یہ بھی ایک نہایت اعلیٰ درجہ کی لذت ہے۔ جس کو یہ ذوق عطا ہو جائے وہ بعض دفعہ باقی سب لذتوں سے بے نیاز ہو جایا کرتا ہے۔ اس لئے بڑی حکمت کے ساتھ رفتہ رفتہ آگے قدم بڑھانے پڑیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آئندہ احمدیت کا مستقبل ہیں ۔ ان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھ کر ضائع نہ کریں۔ ان کو غم اور دکھ کی نگاہ سے دیکھیں ، ان کو پیار کی نظر سے دیکھیں، ان کو اپنے ساتھ لگانے کی کوشش کریں۔ پھر وہ لوگ جو ان کو اڈے مہیا کرتے ہیں ان سے ملیں ان کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سمجھائیں ، ان کو بتائیں کہ تم یہ ٹھیک نہیں کر رہے۔ ان کے بگڑے ہوئے مزاجوں کی اصلاح کی طرف توجہ کر و بجائے اس کے کہ ان کے بگڑے ہوئے مزاجوں کو بدتر کرنے میں ان کی مدد کرو۔ پس یہ سارے امور ایسے ہیں جن کے متعلق مجھے یقین ہے کہ جماعت احمد یہ بنیادی طور پر صلاحیت رکھتی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ۔ اس لئے کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں خدا کی خاطر کرتے ہیں اور جب ہماری نیتیں خدا کی خاطر ہیں ہم واقعہ نیکی کو پنپتا دیکھنا چاہتے ہیں، اس کو بڑھانا چاہتے ہیں ، اس کو نشو و نما دینا چاہتے ہیں اور نیتیں ہماری صاف ہیں تو پھر دعا کے ذریعے حکمت کے ذریعے، صبر کے ذریعے اگر ہم آگے بڑھیں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں اس کی ضروری توفیق ملے گی۔ میں نے بار بار ربوہ کے حوالے دئے ہیں اس وجہ سے کہ ربوہ کی دوری کی وجہ سے مجھے شدید فکر رہتی ہے کہ ربوہ میں کیا ہو رہا ہے۔ اس لئے کہ اگر چہ مرکز فی الحقیقت تو خلیفہ وقت کے ساتھ ہی گھومتا ہے لیکن جو انتظامیہ مرکز ہے وہ بہر حال ربوہ میں ہے۔ ربوہ کے اوپر اگر خدا نخواستہ برائیوں نے حملہ کر دیا اور وہاں کی ہماری نوجوان نسلیں خراب ہوئیں تو اس کا ساری دنیا کی احمدی جماعتوں پر برا اثر پڑے