خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 723 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 723

خطبات طاہر جلدے 723 خطبه جمعه ۲۸ اکتوبر ۱۹۸۸ء تو آوارگی ایک ایسی چیز ہے جو ایک بیدار مغز انسان کو صاف سڑکوں پر کھلی کھلی دکھائی دے دیتی ہے۔ سوائے اس کے کہ کوئی ارادہ اپنی آنکھیں بند کرلے ۔ یہ ایسی بیماری نہیں جو دکھائی نہ دے ہے۔ سوائے اس کے کہ کوئی ارادہ اپنی بند یہ ایسی بیماری جو دکھائی نہ اور سمجھ نہ آسکے۔ اگرچہ اس پر معین ہاتھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ امور عامہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ آپ یہاں کیوں پھر رہے ہیں۔ لڑکے کہیں گے ہاں ہم پھر رہے ہیں آپ کو اس سے کیا۔ مگر سمجھنے والا انسان سمجھتا ہے کہ معاشرے میں ایک بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔ ایک لذت کی تلاش ہے ایک تسکین کی جستجو لگ گئی ہے جو ان نو جوانوں کو میسر نہیں آرہی۔ ۔ اس کے بعد ان میں سے کچھ طبقے پھر معین لذتوں کی تلاش میں الگ الگ یا دو دو یا تین تین الله کی صورت میں گھومتے پھرتے ہیں ، بعض جگہ اڈے بناتے ہیں اور عموماً یہ اڈے آپ کو بازاروں میں دکھائی دیں گے۔ آنحضرت ﷺ نے جو بازاروں کے خلاف نفرت کا اظہار فرمایا وہ در اصل اسی وجہ سے ہے۔ آوارگی کا بازاروں سے ایک عام تعلق ہے اور گہرا تعلق ہے۔ چنانچہ General Merchants کی دکانیں ہیں یا ویڈیوز بیچنے والی یا لیسٹس بیچنے والی دکانیں ہیں یا تصویریں اتارنے والی دکانیں ہیں یا ریسٹورنٹس ہیں ۔ ان سب جگہوں میں پھر عموماً یہ لوگ راہ پا کر وہاں موقع کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ کوئی اور بگڑا ہوا مزاج اگر وہاں ہاتھ آجائے تو اس کے ذریعے پھر اپنے بد تعلقات کو آگے بڑھائیں۔ یہ چیز بھی ایسی ہے جو شاید اس سطح پر معین جرم کے طور ظاہر نہیں پر لیکن جو منتظمین ہیں جن کے سپر د معاشرے کی تربیت ہے وہ اگر آنکھیں کھول کر ان باتوں کو دیکھیں تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ چیزیں مخفی پھرتی ہیں ۔ سرِ عام آپ کو یہ باتیں ہوتی دکھائی دیں گی۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ بعض بچیاں بھی بے احتیاطی کے ساتھ بعض دکانوں میں کثرت سے جاتی ہیں اور بے وجہ وہاں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ آپ کو معلوم ہو گا بعض لوگ بعض قسم کی فلمیں خریدنے کے لئے یا کرائے پر لینے کے لئے بعض آڈیو ویڈیو دکانوں پر کثرت سے جاتے ہیں اور پھر کسی جگہ انہوں نے اڈے بھی بنائے ہوئے ہوں گے جہاں جا کر وہ ان کو دیکھتے ہیں ۔ - اسی طرح اور بہت سی باتیں گو سطح سے نیچے چلتی ہیں لیکن ان کی علامتیں سطح سے باہر پھر رہی ہوتی ہیں اور یہ ہو نہیں سکتا کہ ایک سمجھدار انسان ان باتوں کو دیکھ کر معلوم نہ کر سکے کہ کیا ہو رہا ہے۔ جب اس سے نظر غافل ہو جاتی ہے تو پھر یہ بیماریاں اور رخ اختیار کر لیتی ہیں۔ ایسے لوگوں میں