خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 710 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 710

خطبات طاہر جلدے 710 خطبه جمعه ۲۱ را کتوبر ۱۹۸۸ء روس کھل کر ان چیزوں کو بیان کرنے لگ گیا ہے۔ پہلے چین نے شروع کیا ہے اب روس میں بھی Openness کے تصور میں کہ ہر چیز کھلی ہونی چاہئے چھپانے کی کوئی بات نہیں یعنی چھپانے کی ہر چیز یعنی کوئی ضرورت نہیں۔ اس سے بدیاں گہری اندر دھنستی ہیں اور اور زیادہ جڑ پکڑتی ہیں ۔ بہر حال کوئی اندر اور ۔ بھی وجہ ہو روس میں اب یہ پالیسی ہے کہ بات کو کھولنا چاہئے اور پتا چلتا ہے کہ وہاں بعض صوبائی حکومتیں اتنی کرپٹ ہو چکی ہیں ، اتنی بددیانت ہو چکی ہیں کہ یہ سوال روس میں بالا سطح پر بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ قومی لڑائی کرنی پڑے گی ان بدیوں کے خلاف ۔ ایسے اقدامات کرنے پڑیں گے جس کے نتیجہ میں بڑے بڑے علاقے متاثر ہوں گے اور بعض اقدامات انہوں نے کئے بھی ہیں لیکن خود ماسکو بھی اس سے مستثنی نہیں ہے۔ روس کے وہ حکام جو تجارت کے تعلقات کی خاطر بیرونی دنیا کا سفر کرتے ہیں ان سے جب لوگوں کے رابطے ہوتے ہیں بعض ان میں سے مجھے بھی باتیں بتاتے ہیں اور وہ یہی بتاتے ہیں کہ وہ رشوت مانگتے ہیں۔ جب تک ان کا حصہ مقرر نہ کیا جائے اس وقت تک وہ اپنے تجارتی روابط پر صاد نہیں کرتے ، اپنے دستخط نہیں کریں گے۔ باتیں حکومتوں نے طے بھی کر لی ہوتی ہیں کوئی بہانہ بنائیں گے اور ساتھ کہہ دیتے ہیں کہ بھئی تم سے ہمارا سودا نہیں ہو گا جب تک اتنے روپے سورئٹزر لینڈ میں یا فلاں جگہ جمع نہ کرا دو۔ تو مالی بے راہروی کا تو یہ حال ہے کہ بڑی بڑی اشترا کی حکومتیں بھی اپنے ارادوں میں مخلص ہونے کے باوجود ان سے لڑائی میں نا کام ہو چکی ہیں اور ہوتی چلی جارہی ہیں ۔ تو یہ ذمہ داری بھی غریب جماعت احمد یہ پر ہے کہ وہ مالی لحاظ سے نمونہ بنیں لیکن چونکہ ہر احمدی جو اپنے تجربے میں کسی سے تکلیف اٹھاتا ہے مجھے خط لکھ دیتا ہے خواہ اس غرض سے نہ لکھے کہ میں اس کا کوئی مداوا کروں اور اس کو پیسے واپس دلواؤں وہ اپنی تکلیف کا اظہار کر کے دعا کی درخواست کر دیتا ہے۔ اس لئے یوں لگتا ہے کہ ساری جماعت ایک آئینہ خانے میں بیٹھی ہوئی ہے ہر جگہ سے اس کی تصویر میں مختلف خطوں میں یہاں تک پہنچتی رہتی ہیں ، ابھر رہتی ہیں۔ کوئی حصہ دنیا کا نظر سے چھپا ہوا نہیں ہے اور اس وجہ سے مجھے نظر آرہا ہوتا ہے کہ اب کیا چیز دوبارہ توجہ کی محتاج ہے اور توجہ کی مستحق ہے اور جب کچھ چیزیں اکٹھی ہو جاتی ہیں پھر ان کی طرف توجہ کرنی پڑتی ہے ورنہ تو یہ جو مضمون ہے ایسا ہے کہ ہر خطبہ میں بیان کیا جائے تو اس کا حق ادا نہیں ہو سکتا مگر اور بھی ذمہ داریاں ہیں ۔