خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 704
خطبات طاہر جلدے 704 خطبه جمعه ۲۱ را کتوبر ۱۹۸۸ء صلى الله لئے نہیں جن کا تعلق ایک قوم سے تھا چونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی یا کی سرداری اور آر کی سرداری اور آپ کی سیادت تمام دنیا پر محیط ہے اس لئے جو بھی آپ کا سچا غلام ہو گا اگر اسے نوح کا خطاب دیا جائے تو اس سیلاب کا تعلق بھی سب دنیا سے ہو گا اور اس کشتی کا تعلق بھی سب دنیا سے ہوگا۔ اس پہلو سے جماعت احمد یہ کے اوپر بے انتہا عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کشتی کی حفاظت کریں جو کشتی ان کے اخلاق سے تعمیر ہورہی ہے، جو شتی ان کی نیکیوں سے تعمیر ہو رہی ہے۔ جو کشتی ان کو بدیوں سے بچارہی ہے کیونکہ یہ بدیوں سے بچانے والی کشتی ہی ہے اور نیکیوں کی تلقین کر رہی ہے، ان کی نیکیوں میں نشو و نما پیدا کرتی ہے۔ نوح کے سیلاب سے جس طرح کشتی بلند ہوئی تھی طوفان نوح نے ہر چیز کو غرق کر دیا مگر اس کشتی کو غرق نہیں کر سکا اسی طرح بدیوں کا سیلاب خواہ کتنا کا بلند سے بلند تر ہوتا چلا جائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کشتی میں بیٹھ کر آپ بھی اس کے مطابق بلند تر ہوتے چلے جائیں گے اگر اپنے اخلاق کی حفاظت کریں گے۔ یہ معاصی کا سیلاب آپ کو سر بلندی عطا کرے گا اور عظمتیں عطا کرے گا کیونکہ جتنا معاصی کا سیلاب بلند ہوگا اتنی ہی آپ کی اخلاقی عظمت نمایاں ہو کر دور دور سے دنیا کو دکھائی دینے لگے گی لیکن اگر آپ نے اس کو کھیل سمجھا یہ سمجھ لیا کہ ہر شخص جو کشتی میں آچکا ہے وہ لازماً بچایا جائے گا یعنی جو ظاہری کشتی میں آگیا ہے وہ لازماً بچایا جائے گا تو یہ درست نہیں۔ قرآن کریم فرماتا ہے وَأُمَمَ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُمْ مِنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ اور اس کشتی میں ایسی امتیں بھی سوار ہیں جنہیں بچایا جا رہا ہے جو کچھ عرصہ فائدہ بھی اٹھا ئیں گی لیکن بدبختی اور بد قسمتی سے آئندہ ان کی نسلوں میں گناہگار پیدا ہوں گے۔ ان گناہوں کا بیج ان لوگوں کے اندر موجود تھا جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ خدا کی ستاری نے اس کو ڈھانپا ہوا تھا، خدا کی مغفرت نے اس سے درگزر فرمائی لیکن خدا جو عالم الغیب ہے وہ جانتا تھا کہ اس مخفی بسیج نے ضرور نشو و نما پانی ہے اور ایک ایسا وقت آئے گا جبکہ بد قسمتی سے یہ گناہ گار نسلیں پیچھے چھوڑ جائیں گے۔ پس اس نقطہ نگاہ سے جماعت احمدیہ کے اوپر بے انتہا ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بڑی باریک نظر سے اپنی کمزوریوں پر نگاہ رکھیں اور ان گندے بیجوں کو اکھاڑ پھینکیں اپنے سینوں سے جو اگر مخفی بھی رہیں گے ، آج کے وقت اگر مخفی بھی رہیں گے تو کل کے وقت ان کا ظاہر ہونا لابدی ہے کیونکہ