خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 697 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 697

خطبات طاہر جلدے 697 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۸ء جو یہ صلى دنیا یہ معاشرے میں چلنے والی چیزیں ہیں۔ یہ کہنا کہ معاشرہ ان سے کلیہ پاک ہو چکا ہے یہ جھوٹ ہے۔ معاشرہ آنحضرت ﷺ کے ز عروس کے زمانے میں بعض بیماریوں سے کلیہ پاک نہیں ہوا وہ معاشرہ دنہ میں کبھی کسی زمانہ میں بھی ان بیماریوں سے کلیہ پاک نہیں ہو سکتا۔ اس بنیادی اصول کو پیش نظر رکھیں۔ اس اصول کو پیش نظر رکھ کر دو قسم کے رد عمل پیدا ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ جی ! یہ ہوتا ہے، چلتی ہیں یہ چیزیں اس لئے کیا فرق پڑتا ہے ہونے دو۔ یہ وہ رد عمل ہے جو ہلاکت کا رد عمل ہے ۔ میں اس غرض سے یہ باتیں نہیں کہ رہا۔ میں اس غرض سے آپ کو یہ بتارہا ہوں کہ غافل نہ ہوں ۔ اگر یہ چیزیں آپ کو ظاہری نظر میں دکھائی نہ بھی دے رہی ہوں تو یہ نہ سمجھیں کہ موجود نہیں ہیں۔ اس لئے نگرانی کی نظر کو لئے سونے نہ دیں اور جو ادارے ان چیزوں پر مقرر ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ ان باتوں پر نگاہ رکھیں۔ ان بیماریوں نے کسی نہ کسی شکل میں ہر معاشرے میں موجود رہنا ہے یا کم ہوں گی یا زیادہ ہوں گی اور یہی حال دنیا کی بیماریوں کا ہے جو انسانی اجسام سے تعلق رکھتی ہیں ۔ یہ تو روحانی بیماریاں ہیں اجسام کی بیماریاں بھی اسی طرح ہوتی ہیں۔ ہر انسان میں کچھ نہ کچھ بیماریوں کے کیڑے ہر وقت موجود ہیں ۔ اگر جسم صالح ہے اور یہ جانتا ہے کہ یہ بیماریاں موجود ہیں تو ان کے خلاف وہ نگران رہتا ہے۔ جہاں جسم میں فساد پیدا ہو اور جہاں یہ بیماریاں جسم کی نظر سے اوجھل ہو جائیں وہاں یہ بیماریاں قبضہ کر جاتی ہیں۔ میں جو کہہ رہا ہوں جسم کی نظر تو یہ کوئی ایک فرضی بات نہیں ہے۔ واقعہ اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کو ایک نظر عطا کی ہوئی ہے جو ہر قسم کی بیماریوں کا تتبع کرتی ہے اور ہر وقت نگران رہتی ہے ، ہر وقت سرچ لائٹ کی طرح دیکھتی رہتی ہے کہ کہاں کون سی بیماری کس حد تک موجود ہے اور اس کے دفاع کے لئے پھر وہ جسم کے متعلقہ حصوں کو متنبہ کرتی رہتی ہے۔ چنانچہ جو انسان کا Immune System ہے اگر چہ اس کا دماغ سے کوئی تعلق نہیں ہے ، ہمارے شعور سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یعنی انسان کے خون کے اندر جو دفاعی نظام ہے اس کو Immune System کہتے ہیں۔ اس کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ دماغ کو معلوم ہے کہ نہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے لیکن اندرونی طور پر وہاں خدا نے ایک نظر کا انتظام فرمایا ہے، ایک نگرانی کا انتظام فرمایا ہے۔ کچھ جسم کے بظاہر بے شعور حصے یا خلیے ہر وقت دوڑا کرتے ہیں خون کے ذروں کے ساتھ اور یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ کہاں کون سی بیماری کس حد تک پائی جاتی ہے۔ بعض بیماریوں کے خلاف وہ اس طرح رد عمل کرنے کا آرڈر دیتے ہیں