خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 695
خطبات طاہر جلدے 695 خطبه جمعه ۱۴ اکتوبر ۱۹۸۸ء ضروری ہے لیکن بار یک نظر سے اس کی صفائی ضروری ہے اور ایسے مضامین کھول کھول کر جماعت کے سامنے رکھنے چاہئیں کہ جب بھی تمہارے سامنے کچھ ایسے معاملات ہوں ، اقتصادی معاملات جن میں تمہیں ایک دم روپیہ بڑھانے کی دعوت سامنے آئے تو اس وقت اپنے نفس کوٹولا کرو اور آنکھیں بند نہ کیا کرو۔ آنکھیں بند کرنے کا مضمون یہاں واقعہ اطلاق پاتا ہے کیونکہ جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے بڑے بڑے سمجھدار لوگ بھی بعض دفعہ دھو کے میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ ان کی سمجھ سے ان کے نفس کی لالچ زیادہ طاقتور ہوتی ہے، ان کے سامنے ایک آدمی ایک ایسی پیشکش کرتا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ اگر آج میں ایک ہزار روپیہ کسی کے سپرد کر دوں یا فلاں کام میں لگا دوں تو کل یہ دس ہزار روپیہ ہو جائے گا۔ عقل اگر لالچ سے قوی ہو تو یہ کہے گی کہ ہاں ہو تو سکتا ہے، بعض صورتوں میں بڑھ جایا کرتا ہے لیکن چونکہ غیر معمولی بات ہے اس لئے میں پوری چھان بین کروں گا ۔ چونکہ ایسی صورت میں یہ خطرہ بھی ہے کہ میرا روپیہ ضائع ہو جائے اس لئے میں ہر احتمال کا دروازہ بند کر دوں گا اور پھر فیصلہ کروں گا۔ جب وہ اس قسم کی بات کرتا ہے تو وہ دیکھے گا کہ ہمیشہ دھوکا باز بعد میں اس کو کہے گا کہ جلدی ہے، بہت جلدی ہے وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے تمہیں فیصلہ کرنا ہے تو آج کرو ورنہ بس پھر نہ میرے پاس آنا۔ اس وقت پھر عقل کی اور دل کی لالچ کی لڑائی ہو جاتی ہے۔ دل کی لالچ کہتی ہے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے گا، اس پیسے کو کھا جاؤ فورا لے لو یہ جو آنے والا پیسہ ہے اس کو یقینی بنال اور عقل کہتی ہے کہ افراتفری میں ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں جب تک پوری احتیاط نہ ہو اس وقت تک ہمیں اپنے اموال کو داؤ پر نہیں لگانا چاہئے ۔ یہ عقل کا پیغام ہے اندرونی ۔ اس وقت جب انسان فیصلہ کرتا ہے کہ ہاں مجھے کر لینا چاہئے تو دراصل وہ یہ فیصلہ کر رہا ہوتا ہے کہ یہ ایک جوا ہے۔ عام حالات کہ تو یہ رہا ہوتا میں یہ چیز ممکن نہیں ہے اس کا نفس ساتھ ہی یہ فیصلہ دے دیتا ہے۔ اگر اس کا نفس یہ فیصلہ دیتا ہے کہ عام حالات میں ممکن ہے تو اس کا جواب یہ ہوتا ہے کہ پھر جلدی کیا ہے۔ اگر عام حالات میں ممکن ہے تو آج جس طرح ممکن ہے کل بھی ممکن ہو گا۔ اس شخص کے ذریعے ممکن ہے تو ایک دوسرے شخص کے ذریعے بھی ممکن ہے۔ اس لئے دراصل وہ اس وقت یہ فیصلہ کر رہا ہوتا ہے کہ یہ عام حالات میں ممکن نہیں ہے اور جہاں تک خطرے کا تعلق ہے میں جانتا ہوں لیکن جو ا ہے اس لئے کیوں نہ اس وقت جوا