خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 693 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 693

خطبات طاہر جلدے 693 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۸ء شکر کا مقام ہے بین جتنا بہتر ہونا چاہئے وہ الر نہ ہوں تو پھر یہ قابل شرم بات ہے اور ہم اس بات کے اہل نہیں رہتے کہ دوسروں کو بچاسکیں۔ ایک آدمی تیرنا جانتا ہو ضروری نہیں کہ وہ کسی ڈوبتے ہوئے کو بچا سکے۔ ڈوبتے ہوئے کو بچانے کے لئے بہت اچھا تیرنا آنا چاہئے اور جسم میں اسی نسبت سے طاقت بھی ہونی چاہئے ۔ جماعت احمد یہ کو دوسروں کو بچانے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اس لئے اگر معاشرے کو سنبھالنا ہے تو جن بدیوں کا میں ذکر کرتا ہوں ان بدیوں سے جماعت کا کلیۂ اجتناب ضروری ہے اور جماعت کا معیار اس پہلو سے بہت بلند ہونا چاہئے ۔ اب غیر کے مال پر بد نیتی سے نظر رکھنا اور پھر اس کو ہتھیانے سے کوئی پرہیز نہ کرنا یہ ایک ایسی بدی ہے جو کثرت سے تیسری دنیا کے ملکوں میں پھیل گئی ہے۔ مسلمان ہو یا غیر مسلم ہو یہ ایک ایسی بدی ہے جو عام ہے اور بد قسمتی سے احمدیوں کے متعلق بعض دفعہ غیر احمدی یہ شکایت کرتے ہیں کہ فلاں شخص پر ہم نے اعتماد کیا اور اس وجہ سے کیا کہ وہ احمدی تھا۔ یہ توقع رکھ کر اسکے سپر دامانت کی کہ چونکہ یہ احمدی ہے اس لئے امانت میں خیانت نہیں کرے گا لیکن وہ سارا روپیہ کھا گیا ہے اور بعض دفعہ اس میں مبالغہ بھی نظر آیا لیکن بعض دفعہ سچائی بھی نظر آئی ۔ ایک موقع پر ایک ملک کے ایک غیر مسلم نے مجھے خط لکھا کہ فلاں صاحب احمدی تھے اور میں احمدیوں کی بڑی عزت کرتا ہوں اگر چہ میں مسلمان بھی نہیں ہوں۔ میرا عمومی تجربہ یہ ہے کہ احمدی دیانتدار ہوتے ہیں لیکن اس ظالم شخص پر میں اعتماد کر بیٹھا۔ نہ اس نے پھر میرے احسان کا خیال کیا ، نہ اپنی احمدیت کا خیال کیا اور بڑی بے شرمی کے ساتھ میرا روپیہ ہضم کر گیا۔ جب میں نے تحقیق کرائی تو بات درست تھی۔ اس کے متعلق جو کار روائی ہو سکتی تھی کی گئی مگر جب غیر کی طرف سے طعنہ آتا ہے تو بہت ہی شدید تکلیف پہنچتی ہے۔ اس لئے جماعت احمد یہ کو دوسرے کے اموال ، دوسرے کی عزت اور دوسرے کی جان کا احترام سکھانا ضروری ہے اور اس پہلو سے مجھے ڈر ہے کہ بہت سی کمزوریاں ہمارے اندر داخل ہو چکی ہیں اور اس قسم کے بعض جگہ برائی کے اڈے بن چکے ہیں جو آگے پھر برائیوں کو پھیلانے کے لئے منظم طریق پر کارروائیاں کرتے ہیں۔ بعض لوگ شاید یہ خیال کریں کہ اس دور میں جماعت کی برائیوں کا اس طرح تذکرہ کرنا ہمارے لئے خفت کا موجب ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ برائیاں خفت کا موجب ہیں لیکن ان کی اصلاح کے لئے جہاں تک ان کا ذکر ضروری ہے وہ ذکر کرنا خفت کا موجب نہیں ہے بلکہ تقویٰ کی علامت ہے