خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 679
خطبات طاہر جلدے 679 خطبہ جمعہ ۷ را کتوبر ۱۹۸۸ء کہ جب خدا نے اپنی تقدیر کو ظاہر فر دیا ہے تو بے وجہ ان بحثوں میں نہیں الجھنا چاہئے ۔ یہ بھی ایک ایسی وقت کی ضرورت ہے جسے آپ کو پیش نظر رکھنا چاہئے کیونکہ مجھے بعض خطوں سے پتا چل رہا ہے کہ بعض احمدی بے وجہ دوسروں سے الجھتے ہیں اور ایسی باتیں کرتے ہیں جو دل آزاری کا موجب بنتی ہیں۔ خدا تعالیٰ کی قدرت کے اظہار کے نتیجہ میں حمد و شکر کا مقام تو ہے لیکن اس رنگ میں باتیں کرنا مناسب نہیں جس سے کسی کی دل آزاری ہو ۔ اصلى الله حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے زمانہ کا فرعون اور آپ کے زمانے کا لیکھرام ابو جہل تھا اور صلى الله آپ کے دل کی عظمت دیکھئے کہ جب حضرت عکرمہ نے جو بعد میں حضرت کہلائے آنحضرت ﷺ کی الله الله کا طعنہ بیعت کے بعد ، آنحضرت ﷺ سے یہ شکایت کی کہ یا رسول اللہ ﷺ لوگ مجھے میرے باپ کا ۔ دیتے ہیں اور مجھے دکھ پہنچتا ہے تو آنحضرت نے سختی سے منع فرمایا اور فرمایا کوئی کسی کے باپ کی وجہ سے دکھ نہیں دیا جائے کوئی عکرمہ کو اس کے باپ کا حوالہ دے کر تکلیف کی بات نہ کرے۔ (اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابه لا بن اثیر جلد ۴ صفحہ ۵ مطبوعہ بیروت ) یہ ہے سچی عظمت، یہ ہے سچا تقدس جو خدا کے تعلق کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔ پس ان رسموں کو زندہ رکھیں، اس سنت پر چلیں یہ آپ کی زندگی کی ضامن ہوں گی۔ چند فخریہ رنگ میں باتیں کر لینا ہمارے لئے کوئی کام نہیں آئے گا، ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے گا لیکن حضرت رسول اکرم ﷺ کی سنت پر اگر ہم عمل پیرا ہوں گے تو وہ اس میں ہمارے لئے بہت ہی برکتیں ہیں۔ ایسی صورت میں آپ واقعہ دیکھیں گے کہ دشمنوں کی اولادیں اپنے باپوں کی طرف منسوب ہونا چھوڑ دیں گی۔ وہ حسرت سے یاد کریں گی کہ کاش! ہمارے ماں باپ نے ایسی باتیں نہ کی ہوتیں کہ ان کے ساتھ ملانا : صلى الله ملانا ہمارے لئے ذلت کا موجب بن جائے اور وہ اپنے آپ کو آنحضرت رت اور حضرت مسیح صلى الله موعود علیہ الصلوۃ والسلام عاشق محمد مصطفی ﷺ کے ساتھ منسوب کرنا ہی فخر کا موجب سمجھیں گے۔ پس سنت میں عظمتیں ہیں ، سنت میں دائمی فوائد ہیں اس دنیا میں بھی اور اس دنیا میں بھی ۔ اس لئے ایسے نازک وقتوں میں جن سے جماعت آج کل گزر رہی ہے اپنے قدم پھونک پھونک کر رکھیں۔ وہ باتیں کریں جو خدا کے نزدیک پسندیدہ ہوں اور خدا کے نزدیک وہی پسندیدہ باتیں ہیں جو حضرت محمد مصطفی فرمایا کرتے تھے۔ خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا: