خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 673
خطبات طاہر جلدے 673 خطبه جمعه ۷ را کتوبر ۱۹۸۸ء دعاؤں کا حملہ نہیں ہوا بلکہ اس پر ہوا جس پر تمام قوم مل کر روئی جس کے مرنے پر بڑا ماتم ہوا، جس کے مرثیے بنائے گئے ، جس کی یادگار کے لئے بہت سا روپیہ اکٹھا کیا گیا ۔ سو یہ خدا کا احسان ہے کہ اس طرح پر اس نے پیشگوئی کو عظمت دے دی۔ الحمد للہ علی ذالک ( ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه: ۴۱۹ ) جولیکھرام کی موت پر ماتم کیا ہے اس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ آریوں نے جو یہ والسلام اپنے اشعار میں بھی کرتے ہیں: جس کی دعا سے آخر لیکھو مرا تھا کٹ کر عليه الصلواة ماتم پڑا تھا گھر گھر وہ میرزا یہی ہے (در مشین صفحہ: ۸۸) لیکھرام کو شہید کا خطاب دیا گیا اور خلاصہ ساری باتیں تو پڑھنے کا وقت نہیں ہے۔ چند ایک جو خطابات ملے ہیں لیکھرام کو وہ میں نے چن لئے ہیں آپ کو بتانے کے لئے کہ اس کے ساتھ کس رنگ میں قوم نے عزت افزائی کا سلوک کیا۔ شہیدا کبر، شہید صادق، زندہ جاوید، پیغمبر تو حید ، عالم بے مثل ، عالم فقید المثل مصلح اعظم ، دلیل گمر اہان و بے برسراں ، صدر خیر شہداء، امر ، جرنیل، یکتائے زماں، محافظ ملت ، حفیظ ملت، پروانه ملت، میر قوم وغیرہ وغیرہ۔ پھر آریہ مسافر لا ہور کا شہید نمبر لکھتا ہے۔ آریہ بھائیو! آؤ ہم اپنے شہیدوں کی یاد کو تازہ رکھیں ان ۔ کے جاری د کردہ کام کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں ، ان کے مشن کو پورا کر کے ان کی نصیحت پر دل و جان سے عمل کریں ۔“ مشن کو پورا کرنا بھی یعنی لیکھرام کے مشن کو پورا کرنا بھی قوم نے بعد میں یعنی ان کے ساتھ تعلق رکھنے والی قوم نے اپنا فریضہ بنالیا تھا اور اپنے شعار میں اس بات کو داخل کر لیا تھا۔ پھر لکھتے ہیں: ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اپنے محسن سے عقیدت کا ثبوت دیں۔ زبان سے نہیں بلکہ عمل سے ان کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔ ( پھر یہ بھی فیصلہ ہوا کہ ان کی یاد میں ایک میمورئیل قائم کیا جائے ۔ ) پنڈت جی کی یادگار میں ایک میمورئیل بھی کھولا گیا اور اس میں تمیں ہزار کے لگ بھگ روپیہ بھی فراہم ہوا تھا۔ مگر افسوس ہے کہ اس فنڈ سے اس قدر استفادہ نہیں اٹھایا گیا جیسے