خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 671
خطبات طاہر جلدے 671 خطبہ جمعہ ۷ را کتوبر ۱۹۸۸ء صلى الله عروسة کرے گا کہ یہ ہمارے ہاتھ سے نکل نہیں سکے بالکل غیر معقول بات ہے اور تاریخی طور پر قطعاً غلط ثابت ہوتی ہے۔ ابو جہل نے حضرت اقدس محمد مصطفی کو کتنے دکھ دیئے اور آنافا نا چند ثانیے میں ہی وہ اس دنیا اسے رخصت ہوا۔ اسی طرح اور بہت سے ایسے تاریخی واقعات آپ کو ملیں گے جہاں انبیاء دینے والوں نے ایک لمبا زمانہ دکھ دینے کا پایا لیکن اس دنیا سے وہ بغیر کوئی خاص دکھ دیکھے رخصت ہو انبیاء کو دکھ گئے ۔ پس اس لئے اس وقت کے نادان بھی میں سمجھتا ہوں فرعون کے زمانہ کے نادان بھی شاید یہ سوچتے ہوں کہ یہ کیا ہوا اتنا لمبا عرصہ تکلیفیں دی گئیں بلکہ کئی نسلوں سے حضرت موسیٰ کی قوم کو تکلیفیں دی جارہی تھیں اور چند لمحے کے غرقابی کے سوا اس کو اور کوئی دکھ نہیں پہنچا تو یہ نا سمجھی کی باتیں ہیں خدا کی تقدیر کے معاملوں کے فہم سے عاری لوگ ایسی باتیں کر سکتے ہیں ۔ دوسرا پہلو دونوں کے درمیان یہ مشترک ہے کہ فرعون کو بھی اپنی موت کے بعد بڑی شان و شوکت نصیب ہوئی اور آج تک اس کی شان و شوکت کے آثار دنیا میں باقی ہیں اور لیکھرام کو بھی اپنی ہلاکت کے بعد بہت شان و شوکت نصیب ہوئی لیکن جو بنیادی فرق ایک اور ہے وہ یہ ہے کہ فرعون کی لاش محفوظ رکھی گئی کیونکہ اس کو تو بہ کا وقت ملا یعنی ایک رنگ میں تو بہ کی توفیق ملی۔ لیکن لیکھرام کی لاش محفوظ نہیں رکھی گئی۔ اس لئے اسے فرعون کے مشابہ قرار دینے کی بجائے سامری کے گوسالہ کے مشابہ قرار دیا گیا کیونکہ سامری کے بچھڑے کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ یہ تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھوں خدا تعالیٰ نے اس کا ریزہ ریزہ کروایا اور آگ میں جلا دیا گیا۔ پس یہ انجام چونکہ موسیٰ کے فرعون کے انجام سے مختلف تھا اس لئے سامری کے بچھڑے کی تشریح سامنے رکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لیکھرام کے انجام سے آگاہ فرمادیا گیا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہند و ویسے ہی اپنی لاشیں جلاتے ہیں اور چونکہ وہ تلوار سے کاٹا گیا اس لئے اس کے بعد وہ جب جلا دیا گیا تو اس کی خاک ریزہ ریزہ ہو گئی۔ اس کی راکھ ریزہ ریزہ ہو کر دریا میں بہادی گئی اور بعینہ یہی سلوک سامری کے بچھڑے سے ہوا تھا۔ جہاں تک لیکھرام کی عزت کا تعلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانہ میں بھی لوگوں نے اس قسم کی باتیں کی ہیں اور معلوم یہ ہوتا ہے کہ وہ باتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پہنچی بھی ہیں۔ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اتنا بڑا انشان ظاہر ہوا ہے اس لئے اس کی موت کے ساتھ