خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 656
خطبات طاہر جلدے 656 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۸ء ایک عظیم الشان معجزہ قرآن کریم کے ایک بیان کی صورت میں ظاہر ہوا۔ جس نے گزشتہ تاریخ کے ایک ایسے چھپے ہوئے واقعہ کو روشن کر دیا جس کے متعلق کوئی دنیا کا اندازہ لگانے والا ، کوئی سائنس دان ، کوئی مفکر وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا تھا۔ چنانچہ کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ جب بعض دہر یہ مجھ سے خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت مانگتے ہیں تو اُن کو میں ایک مثال یہ دیا کرتا ہوں ۔ میں اُن سے کہتا ہوں اللہ تعالیٰ عالم الغیب والشہادہ ہے اور غیب کا علم تم لوگ کہہ سکتے ہو کہ ٹامک ٹویوں کے ذریعے زائچوں کے ذریعے معلوم کیا جا سکتا ہے مگر قرآن کریم نے تین قسم کے غیب ایسے بیان فرمائے ہیں جن کے متعلق تم خود ماننے پر مجبور ہو جاؤ گے کہ کوئی زائچہ کوئی اندازہ اس قسم کے غیب پر انسان کو غلبہ نہیں دے سکتا۔ ایک غیب کا تعلق ہے ماضی کے واقعات سے اور اُن میں سے سب سے نمایاں واقعہ یہ فرعون والا واقعہ ہے کوئی انسان یعنی حضرت موسیٰ کے زمانے کے بعد جو تقریباً ۱۹۰۰ سال کے بعد آیا ہو وہ ۱۹۰۰ سال کے پہلے ہونے والے اس واقعہ کے متعلق ایسا اندازہ لگائے جس کو انسانی فطرت رد کرتی ہو اور جس کا اُس سے ثبوت مانگا جائے تو کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے۔ سو سال گزر جائیں ۔ دو سو سال گزر جائیں۔ تین سو سال گزر جائیں ۔ ہزار سال گزرجائیں ۔ اُس پر تین سو سال گزر جائیں اور اُس وقت تک اگر مسلمانوں سے پوچھا جائے کہ بتاؤ کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ فرعون کی لاش محفوظ ہے تو کوئی جواب نہ دے سکیں ۔ کوئی ادنی سی عقل رکھنے والا انسان بھی ایسی گپ بنا نہیں سکتا اگر یہ گپ ہو۔ عالم الغیب والشھادۃ خدا سے جس کا تعلق نہ ہو ایسی بات وہم وگمان میں بھی نہیں لاسکتا۔ چنانچہ جب بھی میں نے بات بعض دہریوں کے سامنے رکھی کبھی وہ اس کا جواب نہیں دے سکے۔ آپ بھی تجربہ کر کے دیکھیں یہ ایک ایسا معجزہ ہے قرآن کریم کا جس کی کوئی نظیر آپ کو کسی جگہ نہیں ملے گی ۔ ماضی بعید کے ایک ایسے دور کے واقعہ کو دہرانا اور اس کے ایک ایسے پہلو کو اُجاگر کرنا جو تاریخ میں کو کرنا جو تاریخ میں کہیں مذکور نہیں اور جس کے متعلق دعویٰ کرنا خود اپنے آپ کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک ان معنوں میں ایک ایسا دعوی پیش کرنا جس کا ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا ، جس کو بظاہر تاریخ جھٹلا رہی ہے۔ جس کو ہر معقول آدمی رد کرتا چلا جائے گا کہ یہاں تک ۳۰۰ سال کے بعد خدا تعالیٰ کی تقدیر اُس کی سچائی میں ایسے ثبوت مہیا کر دے گی جن کو زمین اگلے گی اور دنیا اُس کا انکار نہیں کر سکے گی۔