خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 626
خطبات طاہر جلدے 626 خطبه جمعه ۶ ار ستمبر ۱۹۸۸ء جائزہ لوں۔ بعد ازاں کافی لمبے عرصے کے بعد غالباً ۱۹۷۶ء میں پہلی مرتبہ مجھے عارضی طور پر وکیل التبشیر مقرر کیا گیا اور ان دنوں میں خصوصیت سے جہاں میں نے باقی ملکوں کے حالات پر نظر اور نے پر ڈالی وہاں ماریشس کے حالات کا بھی جائزہ لیا۔ بعض پرانی فائلیں پڑھیں، پرانے حالات کو دیکھا کیا ہوتا رہا ہے، اب کیا ہو رہا ہے اور مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے جو بہت ہی دل آویز اور خوبصورت تصویر میں نے طالب علمی کے زمانے کی بنا رکھی تھی اسے اس مطالعہ کے نتیجے میں بہت سے زخم پہنچے اور وہ تصویر ویسی نہ رہی جیسا کہ میں نے سوچی تھی۔ بہت سی چیزیں جو میرے سامنے آئیں ان میں خاص طور پر ماریشس کی جماعت کا ایک رجحان تھا جس سے مجھے بہت تکلیف پہنچی اور وہ یہ نظر آیا کہ مختلف وقتوں میں جو مختلف مبلغ یہاں کام کرتے رہے ہیں یہاں ایک ایسا طبقہ ہے یا تھا، خدا کرے کہ تھا کا لفظ زیادہ موزوں ہو جو بعض مبلغین کو بعض دوسرے مبلغین کے متعلق کچھ بدظن کرتا رہا اور اس بات کو گویا ہوا دیتا رہا کہ تم تو اچھے ہو تم سے پہلے ایسے نہیں تھے۔ چنانچہ یوں معلوم ہوتا ہے جو میں نے فائلوں کا مطالعہ کیا کہ مختلف مبلغ اپنے بعض حلقہ نشین پیچھے چھوڑ گئے ۔ کچھ لوگوں کا وہاں بعض خاص مبلغین سے تعلق ہوا کچھ دوسروں کا بعض دوسروں سے اور وہ ایک جہتی جو ایک صحت مند بدن میں ایک روح اور ایک دماغ اور ایک دل کے تابع ہونی چاہئے وہ یک جہتی اس جماعت میں نظر نہ آئی۔ انگلستان آنے کے بعد جب میں نے وکالت تبشیر کی وساطت اختیار کئے بغیر براہ راست تمام دنیا کی جماعتوں کا مطالعہ شروع کیا اور تمام ڈاک جو دنیا بھر سے پہلے وکالت تبشیر معرفت خلاصے بن کے آیا کرتی تھیں خود دیکھنی شروع کی اور زیادہ گویا نزدیک سے جماعتی حالات کا مطالعہ شروع کیا تو اس وقت بھی ماریشس کے متعلق دو تکلیف دہ چیزیں میرے سامنے آئیں۔ اول یہ کہ یہاں کی لجنہ اماء اللہ ایک وقت میں یوں لگتا تھا جس طرح عین بیچ میں سے پھٹی ہوئی ہے۔ نہ عہدیداروں کو لجنہ کی ممبرات پر پورا اعتماد نہ لجنہ کی ممبرات کو عہد یداروں پر پورا اعتماد، ایک دوسرے سے بدظنی ، ایک دوسرے کے خلاف باتیں کرنا ۔ ایک ایسا تکلیف دہ دور تھا جس کے نتیجے میں مجھے وقتی طور پر لجنہ کو معطل بھی کرنا پڑا اور دوسری بات وہی پرانی بیماری کہ ایک مبلغ کو اٹھانا اور دوسرے مبلغ کو