خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 597
خطبات طاہر جلدے 597 خطبه جمعه ۲۶ را گست ۱۹۸۸ء تک وقت تک وہ کلیہ اُن کی غلامی کرتے ہیں اور جب وہ سمجھتے ہیں کہ یہ آزاد ہونے لگے ہیں یا اپنے عوام کی طاقت کے سرچشمے میں ان کے رگ و پے پیوست ہونے لگے ہیں تو اس وقت وہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے اب ہم ایک اور انقلاب برپا کر دیں گے۔ تمہاری جگہ ہمیں اور آدمی مل جائیں گے۔ جو چیکوسلواکیہ میں ہوا، جو ہنگری میں ہوا، جو ان ممالک میں ہوا جہاں آزادی کا احساس اور شعور ہمارے ملکوں کی نسبت بہت زیادہ سخت ہے وہی اُن کے دوسرے ملکوں میں ہونا ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ ایک کی بجائے دوسرا آئے گا تب بھی آزادی نصیب نہیں ہوگی ۔ آزادی کردار کی حفاظت سے اور کردار کی آزادی سے نصیب ہوا کرتی ہے۔ اُس کی طرف متوجہ ہوں اور یہ کردار اُس وقت تک آزاد نہیں ہو سکتا جب تک ہمارے رہنماؤں کی عقلیں اور اُن کے دل آزاد نہیں ہوتے۔ کھلم کھلا وہ عوام کو جا کر کہیں ہمیں کوئی دلچسپی نہیں اُس طاقت میں جس میں تم آزاد نہ ہو۔ جو باوقار نہ ہو اس لئے ہم کوئی ایسا سودا کسی سے نہیں کریں گے جس میں وہ زنجیریں رنگ بدل کر دوبارہ ہمارے ہاتھوں کو پہنائی جائیں۔ وہ طوق نئی شکل میں دوبارہ ہماری گردنوں میں آویزاں کئے جائیں جو پہلے بھی تھے۔ اس لئے یہ بہت ہی اہم وقت ہے، بہت ہی نازک وقت ہے۔ جہاں تک جماعت احمد یہ کا تعلق ہے میں جانتا ہوں کہ ایک عالمگیر جماعت ہے، پاکستانی جماعت نہیں ہے لیکن پاکستان میں بھی تو جماعت ہے اور بڑی بھاری تعداد میں ہے اور اسلام کی اخوت عالمگیر ہے۔ اس لئے میں صرف پاکستانی احمدی کو اپیل نہیں کرتا ۔ تمام دنیا کے احمدیوں کو اپیل کرتا ہوں کہ اسلام کی باہمی اخوت اور محبت کی خاطر اس مظلوم وطن کے لئے پاکستان کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس نہایت نازک دور میں ہمارے سربراہوں کی آنکھیں کھولے ہماری فوج کے سربراہوں کو شعور عطا کرے وہ سمجھیں کہ اب دوبارہ ہمیں اُس سیاست میں ملوث نہیں ہونا چاہئے جس سے خدا تعالیٰ نے ایک دفعہ نکلنے کا موقع عطا فر ما دیا ہے۔ اس سے اچھا موقع نہ کبھی فوج کو نصیب ہوگا، نہ کبھی پاکستانی عوام الناس کو نصیب ہوگا، نہ سیاست دانوں کو نصیب ہوگا۔ صرف خطرہ یہ ہے کہ بعض سیاست دان بعض دوسرے سیاست دانوں سے جلیں گے اور حسد کریں گے۔ اگر ان کو یہ خطرہ ہوا کہ اس جمہوری دور میں جو آئندہ آنے والا ہے ہم نہیں آئیں گے بلکہ کوئی اور آجائے گا۔ تو وہ جو زیادہ خطر ناک لوگ ہیں وہ دوڑیں گے دوبارہ فوج کی طرف، وہ دوبارہ اپنے بیرونی آقاؤں کے