خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 592
خطبات طاہر جلدے 592 خطبه جمعه ۲۶ را گست ۱۹۸۸ء ہمارے ساتھ تعلق رکھنا چاہتے ہو تو ہمیں قبول نہیں ۔ Friends دوست ہو آقا نہیں لیکن یہ تو پرانے زمانے کی بات ہے آج کل کے زمانے میں جو تاریخ لکھی جا رہی ہے اُس کا عنوان اگر بنایا جائے تو یہ ہوگا Masters Not Friends آتا ہیں دوست نہیں اور یہ بھی ایک طبعی نتیجہ ہے اس کے سوا نکل نہیں سکتا۔ دنیا کی طاقتور حکومتوں کو ضرورت کیا پڑی ہے کہ کسی کمزور ملک کے دوست بن جائیں۔ احمقانہ بات ہے۔ پرانے زمانے کی کہانیوں میں پرانے زمانے کے بادشاہوں کی تاریخ میں تو آپ کو مل جائے گا کہ بہن بنالیا کسی رانی کو اور اُس کی خاطر اُس کی عزت کو بچانے کے لئے فوج کشی شروع کر دی۔ یہ پرانے زمانے کے قصے ہیں آج کی سیاست میں ان باتوں کو کوئی دخل نہیں کوئی حقیقت نہیں انکی ۔ خود غرضی کے سوا آج سیاست پر کوئی چیز حکمران نہیں اور کامل خود غرضی ۔ ایسی خود غرضی کہ اگر آپ کسی کے ساتھ دس، گیارہ سال، پندرہ سال بھی گزاریں اور اُن کی خاطر ان کی مرضی کے سارے کام سرانجام دیں ۔ جس دن وہ طاقتیں سمجھیں گی کہ آپ اب چلا ہوا سکہ بن گئے ہیں جس میں اب کوئی قیمت نہیں رہی تو آپ کو اس طرح پھینک دیں گے ردی کی ٹوکری میں جس طرح آپ کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔ ان طاقتوں کے جو بڑی طاقتیں کہلاتی ہیں اپنے مفادات ہیں اور یہ دوست بن کر جب داخل ہوتی ہیں چھوٹے ملکوں میں تو دوستی کا تو کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ مفادات کا سوال ہے،سودے بازی کا سوال ہے۔ اس لئے معلوم ہوا کہ یہ دراصل آپ کے محتاج ہیں جو آپ کے پاس آرہے ہیں۔ آپ کو دینا چاہتے ہیں کچھ اس لئے کہ آپ سے اُس سے بڑھ کے بڑھ کر لیں یا کم سے کم اس قسم کے معاملات کریں کہ دونوں کو کچھ نہ کچھ فائدہ ہو۔ جب یہ صورت ا یہ صورت حال ہے تو پھر با پھر با شعور طریق پر ان سے سودا بازی کی ضرورت ہے۔ دبنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو یہ یقین ہو جانا چاہئے کہ کوئی آپ کا محسن نہیں ہے سوائے خدا کے۔ خدا پر توکل رکھیں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر اپنی قوم کا سر بلند کرنے کی کوشش کریں۔ جتنا زیادہ آپ عوام الناس کا شعور بیدار کریں گے اُن کو دنیا کی سیاست سے آگاہ کریں گے، صورت حال پر مطلع کریں گے۔ اُتنے ہی زیادہ آپ طاقتور ہوتے چلے جائیں گے۔ اتنی زیادہ آپ میں اہلیت ہو گی کہ آپ سودے بازی کریں اس لئے لازما آپ کو یہ کھول کر بیان کر دینا چاہئے تمام دنیا کو کہ اب وہ دور آئندہ نہیں چلے گا۔ وہ زمانہ تو گیا جب تم لوگ یہ کام کیا کرتے تھے۔ تم نے طاقت سے ہمیں محروم رکھا ہے اور ظلم کیا ہے تو اور کر لو جتنا کر سکتے ہو لیکن سایہ