خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 578 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 578

خطبات طاہر جلدے طاقت روک نہیں سکتی ۔ 578 خطبه جمعه ۱۹ اگست ۱۹۸۸ء یہ یونہی وہم ہے کہ روس ابھی خود ہاتھ چھوڑ کے چلا گیا اور کمزوری کا نشان ہے۔ ہرگز کمزوری کا نشان نہیں روس کی عالمی Policies تبدیل ہو رہی ہیں ۔ روس نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ جب تک نیوکلیئر ڈیٹرنس موجود ہیں اور اُس میں ہمارے مخالفانہ طاقتوں کو برتری حاصل ہوتی چلی جا رہی ہے۔ یعنی ایٹمی آلات میں، اُس وقت تک ہمارے Conventional Weapons یعنی جو روایتی ہتھیار ہیں اُن میں برتری ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی ۔ یعنی ایک اور تین کی نسبت ہے روسی افواج کو اور اُن کے ہتھیاروں کو جہاں تک پرانے رسمی ہتھیاروں کا تعلق ہے۔ امریکہ اور یورپ کی ساری طاقتیں مل بھی جائیں تو تب بھی روس کی رسمی فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتی لیکن کیا فائدہ اس برتری کا اگر عالمی طور پر Atomic Deterrent موجود ہیں ، بین الاقوامی طور پر Atomic Deterrent موجود ہیں۔ یعنی کچھ بھی نہیں کر سکتے کیونکہ ایٹم بم دونوں طرف ہلاکت کا پیغام بن سکتا ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنی پالیسی تبدیل کی ہے۔ یہ اب پہلے ایٹمی ڈیٹرنٹ کو ہٹائیں گے اور اُس فضا کو صاف کریں گے جہاں سے ایٹمی بم ان کے لیے خطرے کا موجب بن سکتے ہیں۔ خواہ وہ مقابلہ امریکہ کے لیے خطرے کا موجب ہوں۔ یہ فضا صاف ہو جائے گی، چین سے تعلقات درست ہو جائیں گے تو پھر ایک نئی سیاست اُبھرے گی ۔ اگر یہ واقعات رونما ہو جائیں ، اگر حالات میں اور کوئی تبدیلیاں پیدا نہ ہوں جو اس سیاست کا رخ بدل دیں۔ تو پھر روس اگر چاہے کہ پاکستان یا ہندوستان کو آناً فاناً اپنے قبضے میں کر لے تو یہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ جی افغانستان سے نکال کر ہم نے بہت بڑا کمال کر دیا ہے وہ ان کے لیے بہت بڑی Surprise پڑی ہوئی ہے۔ روس کی اتنی بڑی طاقت ہے کہ مشرقی یورپ کی عظیم الشان طاقتوں نے جب اس کو نکالنے کی کوشش کی تو چند گھنٹوں میں وہ تباہ کر دی گئیں۔ بعض چند دنوں میں بعض چند گھنٹوں میں ۔ اس لیے اس غلط نہی میں مبتلا نہ ہوں آپ کا ایک ہمسایہ بہت بڑا طاقتور ہمسایہ ہے۔ وہ ساتھ جڑا ہوا ہے۔ امریکہ آپ سے دور ہے وہ چاہے بھی تو اُس وقت آپ کی مدد کو نہیں پہنچ سکے گا۔ ایک دفعہ قائد اعظم جب حیدر آباد دکن تشریف لے گئے تو وہاں بہادر یار جنگ صاحب سے اُن کی گفتگو ہوئی ۔ بہادر یار جنگ صاحب ان کے ساتھی تھے اور ہمیشہ اُن کا ساتھ دینے والے تھے لیکن انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ ہم یہاں الگ اپنی آزادی کا اعلان کر دیں اور