خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 572 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 572

خطبات طاہر جلدے 572 خطبه جمعه ۱۹ اگست ۱۹۸۸ء رکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح روس کا حال ہے ، اسی طرح ہندوستان کا حال ہے۔ ان تین بڑی طاقتوں میں ہم گھرے ہوئے ہیں اور کوئی مع اپنے جذباتی طور پر آپسے تعلق کی خاطر آپ کا دوست نہیں ہے نہ ہوگا کبھی ۔ ان تینوں طاقتوں میں سے کسی ایک کو دشمن بنانا پاکستان کے حق میں اچھا ثابت نہیں ہو سکتا۔ اس لیے سوائے اس کے اور کوئی ذریعہ نہیں کہ امریکہ سے کہیں کہ تم جو کچھ بھی کرتے ہواُس سے باز رہو۔ اگر تم چاہتے ہو کہ ہمارے تعلقات تم سے درست ہوں تو ہم تمہارے دشمن نہیں بنیں گے یہ ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں۔ اس لیے بھی یقین دلاتے ہیں کہ ہمارے پاس چارہ ہی کوئی نہیں ہم تمہارے دشمن بن سکتے ہی نہیں ، بے اختیار قوم ہیں بیچارے۔ سو طرح کی احتیا جیں ہیں تمہارے ساتھ تمہیں کیوں وہم ہے کہ سیاست او پر آگئی تو وہ تمہاری دشمن ہو جائے گی ، دشمن ہو نہیں بنے سکتی۔ ہما ۔ ہمارے حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان تینوں بڑی طاقتوں سے دوست کے دوست رہیں۔ اس لیے ہم تم پر خوب واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر تم ہمارے اندرونی معاملات میں دخل اندازی بند کر دو تو ہماری طرف سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ بہتر تعلقات کے امکانات ہیں، بدتر تعلق کا کوئی احتمال نہیں لیکن خوب اچھی طرح یا د رکھیں کہ اگر غلطی سے ان کو یہ احساس دلایا گیا جیسا کہ دلایا جاتا ہے بعض اوقات کہ تم ہمارے دشمن ہو تم نے ہمیں غلام بنایا ہم تمہیں اُتار کے نکال کر باہر ماریں گے اور تمہارے ساتھ تعلقات ختم کر لیں گے اور روس کی طرف چلے جائیں گے تو یہ ساری کھوکھلی باتیں ہوں گی۔ نقصان کے سوا اس سے آپ کو کچھ نہیں پہنچے گا کیونکہ روس کی طرف اگر جانا بھی چاہیں تو روس آپ کو ہندوستان کے مقابل پر قبول نہیں کر سکتا۔ اُس کے لیے فیصلہ کرنا ہے دو چیزوں کے درمیان ۔ یعنی ترجیحی فیصلہ کرنا ہے یا ہندوستان کو اختیار کریں یا آپ کو اختیار کرے کیونکہ آپ دونوں کے درمیان تو وہ ا کوے اور غلیلے جیسا بیر ہے اور جس طرح ایک نیام میں دو تلواریں نہیں آسکتیں۔ اس طرح ایک دوستی کے دائرے میں اس وقت سر دست ہندوستان اور پاکستان اکٹھے نہیں ہو سکتے ۔ اس لیے مجبوراً روس کو اختیار کرنا ہو گا کسی ایک کو اور جہاں تک ترجیح کا تعلق ہے وہ لاز م ہندوستان کو ترجیح دے گا۔ اس لیے امریکہ سے دوستی تو ڑ کر آپ کا یہ خیال کہ آپ کو ہندوستان کے جبر اور ظلم سے بھی روس بچالے گا یہ بالکل ایک باطل خیال ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں ۔ آپ بے دوست ہو جائیں گے پھر، بے سہارا ہو جائیں گے اور دوسری طرف اس کے اور نقصانات بھی ہوں گے کیونکہ بیرونی