خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 559
خطبات طاہر جلدے 559 خطبه جمعه ۱۹ اگست ۱۹۸۸ء مباہلہ کا اعجازی نشان جنرل ضیاء الحق کی ہلاکت اور پاکستانی رہنماؤں کو قیمتی نصائح ( خطبه جمعه فرموده ۱۹ اگست ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: پنجابی کے ایک صوفی منش شاعر جو پنجابی عوام میں بہت مقبول ہیں اُن کا نام میاں محمد بخش ہے۔ اُن کا ایک شعر ہے یا شعر کا ایک مصرعہ ہے کہ دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے سجناں وی مر جاناں اس چھوٹے سے پنجابی کے مصرعے میں بڑی حکمت بیان کی گئی اور جہاں تک مومن کی تربیت کا تعلق ہے جو قرآن اور سنت نے مومن کی تربیت کی ہے۔ اُس میں یہ بات بہت اچھی طرح داخل ہے اور مومن کے مزاج کا حصہ بنادی گئی ہے کہ کسی کی موت پر کسی کے غم پر خوشی نہیں کرنی چاہئے۔ لیکن اس کے باوجود بعض ایسے مواقع آتے ہیں کہ بعض خوشیوں کا موت سے تعلق بن جاتا ہے۔ فی ذاتہ موت خوشی کا باعث نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے کوئی اور حکمت کارفرما ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو خوب کھول کے بیان کرتے ہوئے فرمایا وَ يَوْمَیذِ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ بِنَصْرِ اللَّهِ (الروم : ۶،۵ ) کہ آج کے دن مومن بہت خوش ہیں ۔ اس لیے نہیں کہ کسی کو شکست ہوئی ہے یا کوئی مارا گیا ہے بنصر الله اس لیے کہ خدا کی نصرت اُن کی مدد کو آئی ہے۔ پس جنرل ضیاء الحق صاحب کی موت بذات خود ہر گز کسی خوشی کا موجب نہیں ۔ امر واقعہ یہ